واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر، پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت میں بڑے اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق تقریباً 2200 میرینز پر مشتمل ایک ‘میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ’ کو تین جدید جنگی بحری جہازوں کے ہمراہ خطے کی جانب روانہ ہونے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا (ABC News) کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔
US DEPLOYS 2,200 MARINES, 3 AMPHIBIOUS SHIPS FROM JAPAN TO MIDDLE EAST AMID IRAN WAR — ABC pic.twitter.com/ZVtRgrRjzX
— RT (@RT_com) March 13, 2026
یو ایس ایس ٹرپولی کی آمد: وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق، جاپان میں تعینات امریکی بحری جہاز ‘یو ایس ایس ٹرپولی’ (USS Tripoli) کو اپنے میرینز کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
🇺🇸🇮🇷 BREAKING | The Pentagon is moving a Marine expeditionary unit to the Middle East as Iran steps up attacks on the Strait of Hormuz, according to two US officials.
U.S. Defence Secretary Pete Hegseth has approved a request from Central Command for the unit, typically… pic.twitter.com/iHdhRBIyBd
— Visioner (@visionergeo) March 13, 2026
یہ یونٹ کسی بھی ہنگامی صورتحال، بحرانی ردِعمل اور جنگی کارروائیوں کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اور اسے خاص طور پر تیز رفتار مشن مکمل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے یو ایس سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی اس درخواست کو باقاعدہ منظور کر لیا ہے جس میں خطے میں اضافی بحری بیڑے اور میرینز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارتی گزرگاہوں کا تحفظ اور ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔

