تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

امریکا کی اگر پرانی سیکرٹ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے جو کہ وہ ایک خاص مدت کے بعد اوپن کر دیتا ہے ان دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کیسے کیسے حربوں کے ساتھ ملکوں کی قیادتیں تبدیل کرتا رہا ہے ہم نے دیکھا کہ 2003 میں عراقی صدر صدام حسین کو ہٹانے کے لیے کیا ڈرامہ رچایا گیا دنیا کو باور کرایا گیا کہ عراق کے پاس بڑے تباہ کن ہتھیار ہیں اور اس پر اپنے اتحادیوں سمیت چڑھ دوڑے اسی طرح 2011 میں لیبیا کے معمر قذافی کے ساتھ کیا کیا پہلے اسے مذاکرات پر لایا گیا اور مذاکرات کے دوران ہی اس کی فوج میں بغاوت کروا کر اسے مروا دیا یہی کچھ شام، مصر ،لبنان میں کیا گیا افریقی ملکوں میں بھی رجیم چینج کے نام پر اکثر ملکوں میں خانہ جنگی جاری ہے امریکا جن ملکوں میں ایک بار رجیم چینج کر دیتا ہے پھر ان ملکوں میں دوبارہ کبھی استحکام نہیں آنے دیتا عراق، مصر،شام، لیبیا، لبنان سب اس کی مثالیں ہیں امریکا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دنیا کے بیشتر ملکوں کے ساتھ سرحد نہ ہونے کے باوجود ان کاہمسایہ ہے اس کا پوری دنیا پر اثرورسوخ ہے وہ بیشتر ملکوں میں اپنے من پسند حکمرانوں کے ذریعے حکمرانی کر رہا ہے اب مشرق وسطی کو دیکھ لیں ایران کے علاوہ سب اس کی چھتر چھاوں تلے ہیں وہ ان کی سیکورٹی کے نام پر ان ملکوں میں اپنے اڈے بھی قائم کیے ہوئے ہیں ان کی سیکیورٹی کے نام پر ان سے اربوں ڈالر بھی اینٹتھا ہے اور انھیں آنکھیں بھی دکھاتا ہے جو حکمران رتی برابر بھی ہینکی پھینکی کرتا ہے وہاں رجیم چینج کا ڈول ڈال دیا جاتا ہے
پاکستان میں رجیم چینج کا کھیل بھی بڑا پرانا ہے اور شاید سب سے آسان رجیم چینج پاکستان میں ہی ممکن ہے اگر دیکھا جائے تو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی ایمبولینس کا پٹرول ختم ہونا اور گھنٹوں بے یارومددگار پڑے رہنا رجیم چینج کی ہی کڑی تھی اس کے بعد لیاقت علی خان کو جلسہ عام میں گولی مروا دینا بھی رجیم چینج کے کھیل کا حصہ تھا لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پھر پاکستان کو کبھی سیاسی استحکام نصیب نہ ہوا اور رجیم چینج کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا پہلے رجیم چینج کرکے ایوب خان کو لایا گیا پھر اس کی تذلیل کروا کر اسے اقتدار سے باہر کر دیا گیا پھر ملک کے دوٹکڑے کروا دیے گئے جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی طور پر مضبوط ہوا تو اس کے پیچھے ڈالر دے کر مولوی لگوا دیے گئے بھٹو کی پھانسی کے پیچھے بھی امریکا کی رجیم چینج پالیسی تھی ضیا الحق امریکی آشیر باد سے بھٹو کو پڑ گیا تھا جب ضیا الحق بھی ناگزیر ہو گیا تو اس کا جہاز ہی اڑا دیا گیا بس پھر کیا تھا کہ ہر دو آڑھائی سال بعد رجیم چینج کے نام پر قیادتیں تبدیل ہوتی گئی محمد خان جونیجو گیا تو نواز شریف آگیا پھر ہر دو آڑھائی سالوں کے بعد نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی چار حکومتیں ختم کر دی گئیں بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی رجیم چینج کا کھیل تھا ابھی حال ہی میں عمران خان کو کس طرح مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر جیل میں ڈال دیا گیا سب پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں ایک وقت میں تو یہ الفاظ زبان زد عام تھے یہاں پتہ بھی امریکا کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا لیکن آج کا پاکستان بہت بدلا ہوا پاکستان ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے

