لاہور: (بے نقاب رپورٹ )ایک تھانہ محرر کی مبینہ آڈیو نے پولیس نظام کے اندر موجود اُن تضادات کو بے نقاب کیا ہے جن پر برسوں سے پردہ ڈالا جاتا رہا۔ گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ “تھانہ کلچر کی تبدیلی” کے دعوے عملی میدان میں کمزور دکھائی دیتے ہیں اور نچلی سطح پر پرانے طریقۂ کار اب بھی برقرار ہیں۔ محرر غازی آباد عثمان کی ریکارڈنگ لیک ہوئی، جس میں وہ کہتا ہے: ایس ایچ او نے کہا ہے کوئی پیسے نہ لے، کوئی تھانیدار پیسے نہ لے۔ میں نے کہا، چپ کر کے ہتھیار پھینک دو، اس نے پیسے لینے ہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بڑا خطرناک ایس ایچ او ہے۔ ریکارڈنگ میں محرر نے ہوشربا انکشافات کیے۔
ویڈیو آخر تک سنیں۔۔ جب ایک محرر سسٹم بے نقاب کرگیا
لاہور میں فیصل کامران (ڈی آئی جی آپریشنز) کی جانب سے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور فہرستیں طلب کرنے کا اقدام بظاہر اصلاحات کی طرف ایک قدم ہے، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔ سٹی ڈویژن میں ایک ایس ایچ او کی جانب سے اپنی “پسندیدہ ٹیم” اور حتیٰ کہ محرر کو ملت پارک تھانے سے تبادلوں کے ذریعے اکٹھا کرنے کا معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام کی اندرونی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ قواعد کے مطابق ایک اہلکار کو ایک ہی تھانے میں محدود بار تعینات کیا جا سکتا ہے، لیکن جب کسی اہلکار کی چھٹی بار شفیق آباد تھانے میں پوسٹنگ ہو اور وہ اسی علاقے میں مسلسل کام کرتا رہے، تو اس سے شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایسے کیسز یہ تاثر دیتے ہیں کہ میرٹ کے بجائے ذاتی روابط اور گروہ بندی زیادہ مؤثر ہیں۔ مزید اہم پہلو یہ ہے کہ اگر ایک ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ساتھ سخت یا غیر مناسب رویہ اختیار کرتا ہے، تو وہی رویہ آگے عوام تک منتقل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ توقع رکھنا کہ نچلے درجے کے اہلکار عوام کے ساتھ مہذب رویہ اپنائیں گے، حقیقت سے دور محسوس ہوتا ہے۔
مریم نواز کے ویژن کے مطابق پولیس کو شہریوں کے ساتھ باعزت انداز میں پیش آنا چاہیے، مگر عملی سطح پر اس پر مکمل عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ اس تضاد کو دور کیے بغیر اصلاحات کے دعوے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔

