لاہور : کمشنر لاہور مریم خان نے شہر میں محفوظ بسنت کی تقریبات اور عمارتوں کی سیفٹی کے حوالے سے اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور بلڈنگ ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ان ٹیموں کا مقصد شہر بھر میں پبلک سیفٹی کے معیارات کو سو فیصد یقینی بنانا ہے۔
جوائنٹ ٹیمیں اور سیفٹی سرٹیفکیٹس
کمشنر لاہور کی ہدایات کے مطابق، اب لاہور کی کسی بھی عمارت کو حفاظتی چیکنگ کے بغیر استعمال کرنے یا وہاں بسنت سے متعلق سرگرمیاں منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
چیکنگ کا عمل: تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور ایکسئز بلڈنگز (Buildings Experts) پر مشتمل ٹیمیں عمارتوں کا دورہ کریں گی۔
سرٹیفکیٹ کا اجراء: طے شدہ ایس او پیز (SOPs) پر پورا اترنے والی عمارتوں کو ہی ‘سیفٹی سرٹیفکیٹ’ جاری کیا جائے گا۔
LDA کی ذمہ داری: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع تمام عمارتوں کے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے کر سرٹیفکیٹس جاری کرے۔
لیسکو (LESCO) کا کلیدی کردار
بسنت کے دوران بجلی کے تاروں سے پیدا ہونے والے ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے لیسکو کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مریم خان نے ہدایت کی کہ لیسکو کی فیلڈ ٹیمیں ہر علاقے میں مکمل پلان کے ساتھ موجود رہیں۔
بسنت کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
لیسکو اہلکار فیلڈ میں رہ کر حفاظتی اقدامات کی نگرانی کریں گے۔
کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ سیفٹی اقدامات کا یہ معیار صرف چند علاقوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ لاہور کی تمام تحصیلوں میں ایک ہی طرح کے قوانین لاگو ہوں گے۔ انہوں نے سختی سے ہدایت دی کہ:
"بسنت قوانین کی پاسداری میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ہر تحصیل میں بلڈنگ سیفٹی چیکنگ کا معیار یکساں ہوگا تاکہ شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔”
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی دھاتی ڈور کے استعمال سے گریز کریں اور صرف ان مقامات یا عمارتوں کا انتخاب کریں جہاں حفاظتی انتظامات مکمل ہوں۔
’محفوظ بسنت اور بلڈنگ سیفٹی‘؛ کمشنر لاہور کا بڑا حکم، جوائنٹ ٹیمیں تشکیل، چیکنگ کے بعد سرٹیفکیٹ لازمی قرار

