لاہور:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بلک ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کردیاصدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔
پیٹرولیم قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹرز نے300 سو روپے سے 600 سو روپے تک کرایوں میں اضافہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور سے فیصل آباد کے کرایہ میں 1200 سے 1350 تک کا اضافہ جبکہ لاہور سے کراچی کا کرایہ 8000 سے 8600 روپے کر دیا گیا۔لاہور سے سرگودھا کا کرایہ 1300 سے بڑھا کر 1550 روپے، لاہور سے اسلام آباد کاکرایہ 2600 سے بڑھا کر 3000 روپے جبکہ لاہور سے پشاور کا کرایہ 2890 سے 3500 کر دیا گیا۔ لاہور سے حیدر آباد کا کرایہ 8650 سے 9200 روپے ، لاہور سے مری کا کرایہ 2790 روپے سے بڑھا کر 3300 روپے جبکہ لاہور سے رحیم یار خان کا کرایہ 4000 سے بڑھا کر 4250 روپے کر دیا گیا۔اسی طرح شہر میں سفر کرنے کیلئے رکشوں ،ٹیکس سروسز کاکرایہ بھی بڑھ گیا۔لاہور سے دیپالپور نان اے سی بس کا کرایہ 600 سے بڑھ کر 750 ہو گیا جبکہ لاہور سے قصورکا کرایہ 120 سے بڑھ کر 150 روپے ہو گیا۔شہر میں رکشے کے کرائے بھی 30 فیصد تک بڑھ گئے جبکہ ٹیکسی سروسز کے کرائے بھی 25 سے 30 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ لاری اڈے پر موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کبھی کہیں خوشی غمی پر جانا بھی امتحان سے کم نہیں ہے ، غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلائے یا سفر کرے۔ ٹرانسپورٹروں کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ سپئیر پارٹس بھی مہنگے ہوئے ہیں، اگر کرایوں میں اضافہ نہ کریں تو گاڑیاں بند کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پٹرول کی قیمت فوری کم کرے ورنہ مہنگائی کا سیلاب آ جائے گا۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنسملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کسی مجبوری کے تحت کیا گیا ہے تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ٹول ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی نازک معاشی صورتحال کے باوجود ٹرانسپورٹرز امپورٹ، ایکسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے اور اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز کو ماضی میں 10 دن کی ملک گیر ہڑتال بھی کرنا پڑی تھی۔ ان کے مطابق ہڑتال کے دوران سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر سے ہونے والے معاہدوں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے مطالبہ کیا کہ وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کریں، بصورت دیگر اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ بند کردی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

