تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے سیاحت کی چمکتی دنیا کو اچانک اندیشوں کی دھند میں لپیٹ دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم نے خلیجی خطے کی وہ رونقیں مدھم کر دی ہیں، جن پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کھڑی تھی۔ یہ نہیں کہ سیاحت متاثر ہوگی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کتنا بڑا نقصان ہوگا اور کتنی دیر تک یہ سناٹا چھایا رہے گا۔ رپورٹس کے مطابق خطے کی تقریباً 367 ارب ڈالر کی سالانہ سیاحتی صنعت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں، جبکہ 56 ارب ڈالر تک کے ممکنہ نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہ خلیج جو کل تک لگژری تعطیلات، بلند عمارتوں اور روشنیوں کی علامت تھی، آج غیر یقینی صورتحال کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اعداد و شمار بھی صورتحال کی سنگینی بیان کر رہے ہیں۔ یو اے ای میں موجود 3 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں میں سے ایک لاکھ سے زیادہ واپسی کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں گویا سیاحت کا خواب اب واپسی کے سفر میں بدل رہا ہے۔ ماہرین اسے کورونا کے بعد فضائی سفر کا سب سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار وائرس نہیں، خوف پھیل رہا ہے۔ جہاں کل تک خلیجی ریاستیں دنیا کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے نت نئے منصوبے بنا رہی تھیں، آج وہی سیاح خاموشی سے اپنے بیگ سمیٹ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ویکیشن رینٹل کی منسوخیاں دوگنی ہو چکی ہیں، 8450 سے زائد بکنگز ختم—جیسے خواب ادھورے چھوڑ دیے گئے ہوں۔ سیاح اب ترکیہ اور آذربائیجان کو متبادل سمجھ رہے ہیں، جبکہ یورپ کے ممالک پرتگال، اٹلی اور یونان نئی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ایشیا میں بھی تھائی لینڈ اور ملائشیاء سستی اور محفوظ منزل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف معاشی نقصان نہیں، بلکہ ایک جذباتی دھچکا بھی ہے۔ وہ خاندان جو چھٹیاں منانے آئے تھے، اب واپسی کی فکرمیں ہیں۔ وہ کاروبار جو سیاحوں پر چلتے تھے، اب سنسانی کا شکار ہیں۔


