دوحہ/واشنگٹن : سیٹلائٹ سے حاصل شدہ نئی تصاویر نے اس تلخ حقیقت کی تصدیق کر دی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل نے قطر میں واقع العبید ایئربیس پر نصب انتہائی حساس اور مہنگے ترین AN/FPS-132 فیزڈ ایرے ریڈار کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ 1.1 ارب ڈالر مالیت کا یہ ریڈار امریکی عالمی میزائل ڈیفنس آرکیٹیکچر کی "آنکھ” تصور کیا جاتا تھا، جس کی بحالی میں اب برسوں لگ سکتے ہیں۔
یہ ریڈار اتنا اہم کیوں تھا؟
AN/FPS-132 کوئی عام ریڈار نہیں تھا۔ یہ ان چند مخصوص سینسرز میں سے ایک ہے جو 5,000 کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر بیلسٹک میزائل کی لانچنگ کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ریڈار پیٹریاٹ (Patriot)، تھاڈ (THAAD) اور ایجس (Aegis) جیسے دفاعی سسٹمز کو وہ ابتدائی ڈیٹا فراہم کرتا تھا جس کی مدد سے دشمن کے میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا حساب لگایا جاتا ہے۔
اس کی تباہی کے بعد، خلیجی تھیٹر میں امریکی اور اتحادی افواج کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کا "ردعمل کا وقت” (Reaction Time) انتہائی کم ہو گیا ہے اور صورتحال سے آگاہی (Situational Awareness) بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
یہ واقعہ جدید جنگ کے ایک ہولناک پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ قطر نے اس تنازع کے دوران اب تک 101 بیلسٹک میزائل روکے۔ العبید ایئربیس پر، جو کہ سینٹ کام (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر ہے، مجموعی طور پر 65 میزائل اور 12 ڈرونز فائر کیے گئے۔ امریکی دفاعی تہوں نے تقریباً سب کو روک لیا، لیکن صرف دو میزائل بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور ان میں سے ایک نے خطے کے سب سے قیمتی ہدف کو نشانہ بنا لیا۔
"حملہ آور کو صرف ایک بار کامیاب ہونا پڑتا ہے، جبکہ دفاع کرنے والے کو ہر بار سو فیصد کامیابی چاہیے ہوتی ہے۔”
انشورنس مارکیٹ اور بحری سلامتی پر اثرات
اس حملے نے انشورنس کمپنیوں اور عالمی شپنگ مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ:
اگر امریکی فوج اپنی سب سے زیادہ قلعہ بند بیس کے اندر موجود 1.1 ارب ڈالر کے ریڈار کو نہیں بچا سکی، تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو ایرانی میزائلوں سے کیسے بچائے گی؟
حال ہی میں ڈی ایف سی (DFC) کی جانب سے نیوی اسکارٹس کے ذریعے بحری جہازوں کو تحفظ دینے کے اعلان کی اہمیت اب محض کاغذ تک محدود نظر آتی ہے۔
اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی روایتی عسکری طاقت کو بی-2 (B-2) اور بی-52 (B-52) مہمات سے نقصان پہنچانے کے باوجود اس کی غیر متناظر (Asymmetric) حملہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہے۔ ایک ایرانی میزائل، جس کی قیمت ریڈار کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے، نے اربوں ڈالر کے دفاعی ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔

