تحریر:رانا افضل رزاق ایڈوکیٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ملک کو درپیش معاشی دباؤ اور محدود ریاستی وسائل کے پیشِ نظر یہ امر ناگزیر ہو چکا ہے کہ سرکاری نظم و نسق میں دی جانے والی تمام مراعات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ خصوصاً مختلف طبقات کے سرکاری افسران کو فراہم کی جانے والی وسیع پیٹرول سہولیات ایسی مراعات میں شامل ہیں جن کی موجودہ صورت میں بقا نہ صرف قومی خزانے پر اضافی بوجھ کا باعث ہے بلکہ انتظامی سادگی اور مالی نظم و ضبط کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔
ریاستی وسائل بنیادی طور پر عوامی فلاح، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سماجی خدمات کی فراہمی کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب ایندھن جیسی قیمتی قومی شے کو بطور استحقاق غیر متناسب انداز میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وسائل کا غیر ضروری اخراج بڑھتا ہے بلکہ معاشرے میں مراعات یافتہ اور عام شہری کے درمیان فاصلے کا تاثر بھی گہرا ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں عام شہری بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں سرکاری سطح پر غیر محدود پیٹرول سہولیات انتظامی اعتدال کے تقاضوں سے متصادم محسوس ہوتی ہیں۔
اس پس منظر میں مناسب اور دانشمندانہ اقدام یہی ہوگا کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں افسران کو فراہم کی جانے والی پیٹرول مراعات کو معقول اور واضح حدود میں لایا جائے اور انہیں صرف سرکاری فرائض کی ناگزیر انجام دہی تک محدود رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کی جا سکتی ہے جس میں استحقاقی پیٹرول کی مقدار، استعمال کا دائرہ اور اس کی نگرانی کے شفاف اصول متعین کیے جائیں۔
ایسا اقدام محض مالی بچت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے وسیع تر انتظامی اور اخلاقی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ جب ریاستی ادارے خود کفایت شعاری، ذمہ داری اور احتساب کا مظاہرہ کریں گے تو اس سے حکمرانی کے نظام میں اعتماد اور شفافیت کو بھی تقویت ملے گی۔ قومی وسائل کے محتاط استعمال کا پیغام درحقیقت ایک ذمہ دار ریاستی طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ استحقاقی پیٹرول مراعات کے موجودہ نظام کو ازسرِ نو مرتب کرتے ہوئے اسے اعتدال، شفافیت اور قومی مفاد کے اصولوں کے تابع بنایا جائے تاکہ ریاستی وسائل کا استعمال واقعی عوامی فلاح اور قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔


