واشنگٹن/ماسکو : امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایران کو ایسی حساس معلومات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں جن کی مدد سے تہران خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور دیگر عسکری اثاثوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ پہلا واضح اشارہ ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن اس جنگ میں بالواسطہ طور پر شامل ہو رہے ہیں جو ایک ہفتہ قبل امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کی تھی۔ روس اور ایران کے تعلقات یوکرین جنگ کے دوران مزید گہرے ہوئے ہیں، جہاں ماسکو کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی مدد حاصل رہی ہے، اور اب روس شاید اس کا "قرض” اتار رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان رپورٹوں کو بظاہر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "روسی مدد سے ہماری کارروائیوں پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ ہم ایرانی فوجی صلاحیت کو مکمل ختم کر رہے ہیں۔”
دوسری جانب، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا:
"امریکی عوام یقین رکھیں، کمانڈر ان چیف (ٹرمپ) کو بخوبی علم ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے۔ جو کچھ پسِ پردہ ہو رہا ہے، اس کا سختی سے سامنا کیا جا رہا ہے۔”
روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے فوجی مدد کی براہِ راست تصدیق تو نہیں کی لیکن یہ ضرور کہا کہ "ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت جاری ہے”۔ انہوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے سوال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جو ماہرین کے نزدیک "خاموشی میں رضامندی” کے مترادف ہو سکتا ہے۔
زیلنسکی کا نیا پینترا اور اسلحہ کی قلت
اس صورتحال میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی میدان میں آگئے ہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک (متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین وغیرہ) کو پیشکش کی ہے کہ وہ ایرانی ‘شاہد ڈرونز’ کو گرانے کے لیے یوکرین کی مہارت سے فائدہ اٹھائیں۔
دریں اثنا، پینٹاگون کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے: کیا امریکی اسلحہ ختم ہو رہا ہے؟ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو اربوں کا اسلحہ دے کر امریکی ذخائر کو خالی کر دیا ہے، جس کے باعث اب ایران کے خلاف جنگ میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
پوتن کا ایران کو ’خفیہ تحفہ‘: امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے روسی انٹیلی جنس کی مدد کا انکشاف،

