بیجنگ (نیوز ڈیسک): عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب چینی صدر شی جن پنگ اور برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے بیجنگ کے ‘گریٹ ہال آف دی پیپل’ میں ملاقات کی۔ 80 منٹ تک جاری رہنے والی اس طویل نشست میں دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی ٹیرف کی دھمکیوں کے جواب میں ایک مستحکم، طویل مدتی اور جامع تزویراتی شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بین الاقوامی نظام اور ‘جنگل کا قانون’
صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کی پالیسیوں کا نام لیے بغیر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید خلل کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کو بتایا کہ عالمی قوانین صرف اسی صورت موثر ہو سکتے ہیں جب بڑے ممالک ان کی پاسداری کریں۔ صدر شی نے خبردار کیا کہ "اگر بڑے ممالک قوانین سے بالاتر ہو گئے تو دنیا ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چین کبھی بھی دوسرے ممالک کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، چاہے وہ کتنی ہی ترقی کر لے۔ اس موقع پر انہوں نے وینزویلا اور گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ بھی دیا، جہاں برطانیہ نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی موقف کی مخالفت کی تھی۔
ٹھوس نتائج اور معاشی پیش رفت
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس ملاقات کو "انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا۔ ملاقات کے اہم اقتصادی نکات درج ذیل ہیں:
ٹیرف میں کمی: وہسکی پر عائد ٹیرف اور چین کے لیے ‘ویٹ فری’ (VAT-free) سفر کی تجاویز پر پیش رفت ہوئی۔
معاشی استحکام: دونوں رہنماؤں نے برطانیہ اور چین کے تعلقات کو ایک "مضبوط اور محفوظ” سطح پر لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔
انسانی اسمگلنگ اور ‘چھوٹی کشتیوں’ کے خلاف نیا معاہدہ
ملاقات کا ایک انتہائی اہم پہلو غیر قانونی نقل مکانی اور انگلش چینل عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں کے خلاف تعاون تھا۔ برطانوی اعداد و شمار کے مطابق، اسمگلروں کے استعمال کردہ 60 فیصد سے زائد انجن چین میں بنے ہوتے ہیں۔
خفیہ معلومات کا تبادلہ: نئے سرحدی سیکورٹی معاہدے کے تحت برطانوی ادارے چینی حکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ جرائم پیشہ گروہوں کی سپلائی لائن کاٹی جا سکے۔
براہ راست رابطہ: چینی مینوفیکچررز کے ساتھ براہ راست رابطہ کیا جائے گا تاکہ قانونی کاروبار کو جرائم کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
سیکیورٹی اور سماجی تعاون
دونوں ممالک نے برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے لیے "بڑے پیمانے پر” کام کرنے اور مصنوعی نشہ آور اشیاء (Opioids) تیار کرنے والے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیر اعظم سٹارمر نے سوشل میڈیا (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ "دنیا کے اس مشکل وقت میں ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی استحکام جیسے مسائل پر مل کر کام کرنا ہی بہترین راستہ ہے۔” ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے عزم کیا کہ وہ باہمی مفادات پر تعاون بڑھائیں گے جبکہ اختلافی معاملات پر کھلی اور شفاف بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ڈونلڈٹرمپ کی دھمکی بے اثر، برطانیہ کے چین کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط ،متنازع موضوعات پربات چیت جاری رہے گی

