پیرس: فرانسیسی حکام نے ‘ایکس’ پر موجود غیر قانونی اور غیراخلاقی مواد کے حوالے سے جاری تحقیقات کے سلسلے میں ایلون مسک کو پیرس طلب کر لیا ہے۔ پیرس پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایلون مسک اور ‘ایکس’ کی سابقہ سی ای او لنڈا یاکارینو کو "رضاکارانہ انٹرویوز” کے لیے بلایا گیا ہے۔
ایلون مسک پر لگائے جانے والے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، جس کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مواد (CSAM): ‘ایکس’ پر بچوں کے ساتھ زیادتی پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی جبکہ ڈیپ فیکس (Deepfakes): مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی اور قابلِ اعتراض مواد (ڈیپ فیکس) کی روک تھام نہ کرنا شامل ہیں۔
اسی طرح ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور تفتیش میں عدم تعاون کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
فرنچ پراسی کیوٹر آفس کا کہنا ہے کہ صرف ایلون مسک ہی نہیں، بلکہ ‘ایکس’ کے دیگر کئی ملازمین کو بھی بطور گواہ رواں ہفتے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پلیٹ فارم جان بوجھ کر اس طرح کے مواد کو جگہ دے رہا ہے یا پھر یہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ایلون مسک اور لنڈا یاکارینو پیرس جائیں گے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ "رضاکارانہ” طلبی ہے، تاہم فرانسیسی قانون کے تحت اس کی خلاف ورزی مستقبل میں مسک کے لیے یورپی یونین میں قانونی پیچیدگیاں اور بھاری جرمانے پیدا کر سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس طلبی کو ‘ایکس’ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فرانسیسی حکام کے اس اقدام کی حمایت کی ہے، جبکہ ایلون مسک کے حامی اسے "آزادیِ اظہار” پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے جب سے ‘ٹویٹر’ خریدا ہے، وہ مواد کی نگرانی (Content Moderation) کے شعبے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کر چکے ہیں، جس کے باعث ان پر مسلسل تنقید کی جا رہی ہے کہ پلیٹ فارم اب غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
ایلون مسک : پیرس پراسیکیوٹرز کا ‘ایکس’ کے خلاف بڑا ایکشن؛ بچوں سےزیادتی کی تصاویر اور ڈیپ فیکس پھیلانے پردنیا کا امیر ترین شخص عدالت طلب!

