لاہور / کراچی: ملک بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آگیا ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔ ہول سیل مارکیٹ کے ذرائع اور کریانہ مرچنٹس کے مطابق گھی اور کوکنگ آئل کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں یکلخت نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد درجہ اول اور درجہ دوم کے گھی و آئل کی قیمتوں کا نیا چارٹ کچھ یوں ہے:
| آئٹم کی قسم | اضافہ (فی کلو/لیٹر) | پرانی قیمت | نئی قیمت |
| درجہ اول (گھی و آئل) | 30 روپے | 560 روپے | 590 روپے |
| درجہ دوم (آئل) | 35 روپے | 510 روپے | 545 روپے |
| درجہ دوم (گھی) | 25 روپے | 510 روپے | 535 روپے |
کریانہ مرچنٹس کا کہنا ہے کہ ہول سیل مارکیٹ سے ہی قیمتیں بڑھ کر آ رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اسے مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت مہنگائی کم کرنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری طرف خوردنی تیل جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
معاشی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ عالمی مارکیٹ اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود گھی اور آئل کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے غریب اور متوسط طبقے کے کچن بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے کا نوٹس لیا جائے اور مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

