اسلام آباد :پاکستان نے جمعرات کو ایران کے مسئلے کو ’سفارت کاری‘ سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد تہران کے خلاف طاقت کے استعمال کے مخالف ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ بورڈ آف پیس میں رواں ماہ پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر ترجمان نے واضح کیا کہ ’وزارت خارجہ نے غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط سے وزیراعظم کو منع نہیں کیا تھا، اس میں شمولیت خلوص نیت سے کی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان نے اکیلے اس میں شمولیت نہیں کی، ہمارے ساتھ دیگر آٹھ مسلم ممالک نے بھی کی۔ غزہ بورڈ آف پیس امید کی کرن ہے۔ لیکن ہم معاہدہ ابراہیمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘
بقول ترجمان دفتر خارجہ: ’پاکستان نے غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور پاکستان کے فلسطین پر موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔‘
یورپی یونین کی جانب سے ایمان مزاری کی سزا سے متعلق کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سب سے پہلے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ سزا مقامی قوانین کے تحت عدالتی عمل کے ذریعے دی گئی ہے۔ متعلقہ افراد کو اپیل اور عدالتی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے لیے مقامی سطح پر قانونی راستہ موجود ہے۔‘
تاہم طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان تمام امور پر یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔
’امریکا کی جانب سے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری سے متعلق ترجمان ددفتر خارجہ نے کہا کہ ’اسے اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مزید پاکستانی امریکا سے پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔س ٹریول ایڈوائزری سے پاکستان ایک محفوظ ملک کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک مثبت اشارہ ہے۔‘
خطہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا،ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل کرنیکی ضرورت ہے، پاکستان

