لاہور (رانا افضل رزاق ایڈووکیٹ کی رپورٹ)
نئے قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں شوہروں کے اعصاب جواب دے گئے ہیں، جبکہ گھروں کے اندر ایک خاموش ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے۔ گھریلو معاملات کے ماہرین اور برسوں کے ستائے ہوئے شادی شدہ حلقوں نے متفقہ حفاظتی ضابطۂ اخلاق جاری کرتے ہوئے تمام احباب کو ہدایت دی ہے کہ اب دن رات گھروں میں گہرے رنگین شیشوں کی عینک مستقل بنیادوں پر پہنی جائے، تاکہ کسی بھی لمحے کسی بھی نگاہ کی غلط تشریح سے جان و عزت محفوظ رہ سکے۔
ذرائع کے مطابق اصل خطرہ آنکھوں میں نہیں بلکہ نگاہ کے مفہوم میں چھپا ہے۔ اگر بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر گھور رہا ہے تو فوری عدالتِ خانہ قائم، اور اگر یہ شبہ ہو جائے کہ پیار سے دیکھا جا رہا ہے تو اس سے بھی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ہی نظر، دو الزامات اور تین دن کی خاموشی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی نازک صورتحال کے پیش نظر عینک کو واحد قابلِ اعتماد دفاعی ہتھیار قرار دے دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کئی شوہروں نے سوتے وقت، کھانا کھاتے ہوئے اور موبائل اسکرول کرتے ہوئے بھی عینک اتارنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ کچھ محتاط مزاج حضرات نے عینک کے ساتھ ماسک، ہیلمٹ اور “نگاہ زمین پر” پالیسی پر بھی سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب خواتین کا دوٹوک مؤقف ہے کہ عینک ہو یا پردہ، ہمیں سب نظر آ جاتا ہے، جبکہ شوہروں کا کمزور مگر پرامید جواب ہے کہ کم از کم نیت تو چھپائی جا سکتی ہے۔ قانوی ماہر رانا افضل رزاق ازدواجی سلامتی خبردار کر رہے ہیں کہ نئے قانون کے ساتھ ساتھ اگر گھریلو امن عزیز ہے تو خاموشی اختیار کرنا، سوالات کم کرنا، نظریں نیچی رکھنا اور عینک مزید گہری کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔

