اپر دیر (یحیی فقیر کی رپورٹ )
دیر بالا میں قانون کی حکمرانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی، جہاں تھانہ شرینگل پولیس نے انسانی جرائم سے فرصت پا کر دنبوں کے مابین قتل کیس درج کر لیا۔ مقدمے کے مطابق ایک دنبے نے پوری نیت، زور اور منصوبہ بندی کے ساتھ ٹکر مار کر دوسرے دنبے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب دنبوں کی لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد پولیس کو اچانک یاد آیا کہ ضلع میں قانون بھی نام کی کوئی چیز ہے۔ پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف مقدمہ درج کیا بلکہ دنبوں کو لڑانے والے انسانوں کی نشاندہی بھی کر لی البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل ملزم دنبہ ہے یا تفریح کے شوقین تماشائی۔
پولیس کے مطابق چند افراد نے “تفریح” کے نام پر دو بے زبان جانوروں کو میدان میں آمنے سامنے لا کر ایسے لڑوایا جیسے کوئی دیہی ورژن کا ریسلنگ شو ہو۔ ہے دونوں دنبے پوری دیانت داری سے ایک دوسرے پر ٹکریں مارتے رہے، یہاں تک کہ ایک دنبہ شدید زخمی ہو کر زمین بوس ہو گیا اور موقع پر ہی جان سے گیا۔
علاقائی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مقتول دنبے کا پوسٹ مارٹم ہوگا، قاتل دنبے کو حوالات میں ڈالا جائے گا یا پھر دفعہ “سینگ بمقابلہ سینگ” کے تحت چالان پیش ہوگا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو جلد ہی مرغوں، بیلوں اور بکریوں کے بھی کریمنل ریکارڈ کھول دیے جائیں گے۔


