منی پولس:امریکا میں 37 سالہ خاتون کی امیگریشن اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں سنیچر کو ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور مارچ کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق منیاپولس میں مظاہرین کی قیادت مقامی میکسیکن رقاصوں کی ٹیم کر رہی تھی اور وہ اس رہائشی گلی کی طرف مارچ کر رہے تھے جہاں رینی گڈ اپنی کار میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں۔
منیاپولس پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد لاکھوں میں تھی اور وہ رینی گڈ کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے جیسے کہ ’امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ (آئی سی ای) کو ختم کرو‘ اور ’انصاف نہیں تو امن نہیں،‘ امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ کو ہماری سڑکوں سے نکالو۔‘
مظاہرے میں شریک 30 سالہ ایلسن مونٹگمری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں بہت غصے میں ہوں، دل ٹوٹ گیا ہے اور افسردہ ہوں۔ بس یہ اُمید اور خواہش ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔‘
فلاڈلفیا میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’آئی سی ای کو جانا ہوگا‘ اور ’ہم امریکا میں فاشزم نہیں چاہتے۔‘
مین ہٹن میں سینکڑوں افراد مارچ کرتے ہوئے امیگریشن کورٹ کے باہر سے گزرے جہاں ایجنٹس نے سماعت کے بعد تارکین کو گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے آئی سی ای کے خلاف سائن بورڈز اٹھا رکھے تھے۔
انڈیویسبل کی کو-ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیا گرینبرگ نے بتایا کہ ’ہم رینی کے لیے انصاف، آئی سی ای کو کمیونٹی سے باہر نکالنے اور منتخب رہنماؤں سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا۔‘منیاپولس کے میئر جیکب فری، جو ڈیموکریٹ ہیں اور امیگریشن اہلکاروں پر تنقید کرتے رہے ہیں، نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے۔ جو بھی املاک کو نقصان پہنچائے گا یا غیر قانونی کام کرے گا اسے پولیس گرفتار کرے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنگامہ آرائی کے جواب میں اپنی ہنگامہ آرائی نہیں دکھائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے جال میں پھنسیں۔‘
سٹی آف منیاپولس کے بیان کے مطابق جمعے کی رات مظاہروں پر قابو پانے کے لیے 200 سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ ان مظاہروں کے دوران ڈپو رینیسانس ہوٹل کو تقریباً چھ ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا اور کچھ مظاہرین نے ہلٹن کینوپی ہوٹل میں داخل ہونے کی ناکام کوششیں کیں، جہاں سمجھا جاتا ہے کہ آئی سی ای کے اہلکار مقیم ہیں۔
پولیس چیف برائن اوہارا نے بتایا کہ کچھ افراد نے ہوٹل کی کھڑکیاں توڑیں اور دیواروں پر وال چاکنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہلٹن کینوپی ہوٹل میں مظاہرہ شروع میں ’شوروغل‘ پر مبنی تھا۔ لیکن جب ایک ہزار سے زائد مظاہرین وہاں جمع ہو گئے تو صورت حال بگڑ گئی اور 29 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔‘
منیسوٹا ،ICE فورس کے خلاف منی پولس شہر میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

