لاہور:پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے امام مساجد کو اعزازیہ کارڈ کا اجرا شروع کردیا ہے، جس کے ذریعے انہیں ماہانہ 25 ہزار روپے وظیفہ آئندہ ماہ سے ادا کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے علمائے کرام اور آئمہ مساجد میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علما اور آئمہ کرام معاشرے میں رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں اور ان کا مقام منفرد اور قابلِ احترام ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ تمام علمائے کرام کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ علما اور آئمہ کرام غم اور خوشی کے مواقع پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور معاشرے میں اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو سب سے پہلے امام مسجد کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام کی عزت کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں تمام مسالک کی تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں اور حکومت کی جانب سے آئمہ کرام کو 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا۔
Initially, we planned to start with 15,000 rupees as a monthly stipend for the Imams. But my father, Mian Nawaz Sharif, insisted that Imams deserve more, suggesting a minimum of 25,000 rupees. Following his advice, we’ve set the monthly stipend at 25,000 rupees. pic.twitter.com/HdYK0b2321
— PMLN (@pmln_org) January 8, 2026
ان کے مطابق اب تک 70 ہزار آئمہ کے بینک اکاؤنٹس کھل چکے ہیں اور یہ ایک ارب 20 کروڑ روپے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت فروری سے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اعزازیہ کی ادائیگی شروع کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اعزازیہ کارڈ کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا، تاہم حکومت شفاف انداز میں یہ منصوبہ مکمل کر رہی ہے۔
خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مذہبی منافرت کو روکنا علمائے کرام کی بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے احتجاج کے نام پر ریاست کو یرغمال بنایا، مذہب کے نام پر فتنہ پھیلایا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ اور فساد پھیلانا فتنہ نہیں تو اور کیا ہے، یہ فتنہ معاشرے کے لیے زہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کو جلایا گیا اور پرامن معاشرے کو تارتار کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی زمین ہر ظالم اور مافیا کے لیے تنگ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹریفک قوانین کی سختی پر لوگ خوش نہیں، تاہم ظالم کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست شہدا کے خون کا حساب ضرور لے گی اور دین کا نام استعمال کر کے فتنہ پھیلانا کھلی خیانت ہے۔

