لاہور+کوئٹہ+پشاور:خطے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے خدشات کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت صوبے بھر میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے تعلیمی ادارے بند رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کے لیے سرکاری فیول بند ہوگا اور سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی ہوگی۔
حکومت بلوچستان کے محکمہ سکول ایجوکیشن اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 23 مارچ تک بند رہیں گے۔
۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ خطے میں حالیہ صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ بطور احتیاطی اقدام کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں انتظامی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو آمدورفت اور ٹرانسپورٹ سے متعلق ممکنہ مشکلات سے بچایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں کی بندش کے باوجود سکولوں میں بچوں کے داخلوں کی جاری مہم، سکولوں کی ڈیجیٹل مردم شماری اور اگر کوئی امتحانات ہوں تو وہ اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔
دوسری جانب محکمہ کالجز، ہائر اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں صوبے کے تمام ڈگری اور ٹیکنیکل کالجز سمیت پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی 10 مارچ سے 23 مارچ تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران تمام تدریسی، تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا ہے۔
دوسری طرف وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیرمعمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی، جبکہ سکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گے اور امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا گیا ہے اور سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی کردی گئی ہے۔
سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ کیا گیا ہے اور صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ای بزنس اور مریم کی دستک ایپ کے تحت سروسز جاری رہیں گی۔ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی۔
مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ سٹاف کی آمد و رفت بند کی جارہی ہے، دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا۔
نجی سیکٹر کو ورک فرام ہوم، غیر ضروری تقریبات نہ کرنے اور صرف ضروری سٹاف بلانے کی ایڈوائزری ایشو کی جائے گی۔
تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے گی، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ادھر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان کے مطابق صوبائی کابینہ نے فیول کنزرویشن اور رسپانسبل گورننس انیشی ایٹو کی منظوری دی ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر دو ماہ کے لیے فیول بچت اقدامات نافذ ہوں گے، بچت اقدامات میں توسیع صورتحال کے تجزیے کے بعد ہوگی۔
سرکاری محکموں میں میٹنگز کو 100 فیصد ورچوئل (آنلائن) کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سرکاری گاڑیوں کے فیول الاونس میں 25 فیصد کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کٹوتی سے مجموعی کٹوتی 50 فیصد ہوگئی ہے، 25 فیصد کٹوتی کووڈ اقدامات کے وقت سے نافذ العمل ہے۔
پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیول کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے،جمعے کے دن تعلیمی ادارے بند رکھنے کی تجویز تاکہ فیول استعمال میں کمی لائی جا سکے، اس کے ساتھ ورچوئل کلاسز کو ترجیح دی جائے گی۔
سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ ہوا ہے۔
جنگ: پنجاب، بلوچستان ،خیبر پختونخوا میں تعلیمی ادارے بند، مریم نواز کے حکم پر وزراء کا فیول بند، افسران کے الاؤنس میں کٹوتی؛ ورک فرام ہوم شروع

