واشنگٹن / یروشلم :امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایکسیاس’ (Axios) نے سفارتی اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل، ایران کے ایٹمی پروگرام کو غیر فعال کرنے کے لیے ایک انتہائی اور خطرناک فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی اور اسرائیلی اسپیشل فورسز کو براہ راست ایرانی سرزمین کے اندر بھیج کر اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنا شامل ہے۔
AXIOS کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن اور یروشلم کے اعلیٰ عسکری اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ خفیہ ملاقاتوں میں ایران کے حوالے سے ‘ہنگامی منصوبوں’ (Contingency Plans) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں یہ آپشن زیر غور آیا کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی کو ہتھیار بنانے کی سطح (Weapon Grade) تک لے جاتا ہے، تو مشترکہ اسپیشل فورسز کا ایک نڈر آپریشن (Daring Operation) کیا جا سکتا ہے۔
اس آپریشن کا بنیادی مقصد ایران کی حساس ترین ایٹمی تنصیبات، جیسے کہ نتانز یا فردو میں داخل ہو کر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو یا تو قبضے میں لینا ہے، یا انہیں وہیں تباہ کر کے ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے خواب کو سالوں پیچھے دھکیلنا ہے۔ یہ تجویز ماضی میں کی جانے والی تخریب کاری کی کارروائیوں، سائبر حملوں یا ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ سے کہیں زیادہ جارحانہ اور براہ راست عسکری مداخلت پر مبنی ہے۔
یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے ماضی میں ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے، جو ایٹمی ہتھیار کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کے بہت قریب ہے۔
اسرائیل مسلسل یہ موقف اپنائے ہوئے ہے کہ وہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا اور اس کے لیے وہ یکطرفہ فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری جانب، امریکا میں موجودہ انتظامیہ (جو اس وقت برسراقتدار ہو) اگرچہ سفارت کاری کو ترجیح دیتی رہی ہے، لیکن ایرانی ایٹمی پروگرام میں تیز رفتار پیش رفت کے باعث وہ اب ‘پلان بی’ (Plan B) کے طور پر سخت فوجی اختیارات پر غور کرنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔
شدید خطرات اور ممکنہ نتائج:
دفاعی اور سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے اندر اسپیشل فورسز کو بھیجنا براہ راست ‘اعلان جنگ’ تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں:
علاقائی جنگ: ایران اور اس کے اتحادی (جیسے حزب اللہ) پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کر سکتے ہیں، جس سے خطہ ایک خونی اور طویل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات: آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی معطل ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا، جس سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران اور معاشی تباہی آ سکتی ہے۔
آپریشن کی کامیابی کا شبہ: ایران کی ایٹمی تنصیبات زیر زمین اور انتہائی محفوظ ہیں، جہاں اسپیشل فورسز کا آپریشن انتہائی مشکل اور رسک سے بھرپور ہوگا، جس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ایران کے ایٹمی ذخائر پر قبضے کا منصوبہ؟ امریکا اور اسرائیل کی اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور، امریکی میڈیا کا انکشاف

