Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: فولڈ ایبل آئی فون کے لیے خریداروں کی دوڑ، آدھے گھنٹے میں تمام فونز بک

      لمبی قطاروں اور ٹریفک جام کا مسلہ حل،اب گاڑیاں ہوا میں اُڑا کریں گی

      قدرت کا ایک اور معجزہ؛ سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ایسا راز جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا!

      گوگل کا بڑا اعلان، نیوز ویب سائٹس اور خبر رساں اداروں کیلئے خوشخبری

      اسرائیل کا ایک اور گھناؤنا روپ بے نقاب: آن لائن اشتہارات کے ذریعے انٹرنیٹ صارفین کی جاسوسی کا انکشاف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    “وزیرِ اعلیٰ کے پی کا دورۂ پنجاب اور مس ہینڈلنگ“ نامور کالمسٹ، ایڈیٹر میاں حبیب کاتجزیہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    سال کے آخری دنوں میں کئی قابلِ ذکر واقعات رونما ہوئے، لیکن دو واقعات غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے۔ ایک طرف وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے قبضہ گروپوں کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ساتھ ملا کر تیز رفتار فیصلے کیے گئے، جن کے نتیجے میں گھنٹوں میں جائیدادوں کے فیصلے ہوئے اور عوامی سطح پر ان اقدامات کو سراہا گیا۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے ان فیصلوں پر عمل درآمد روکتے ہوئے پراپرٹی اونرشپ قانون کو معطل کیا گیا اور قبضے واپس کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
    اس فیصلے پر وکلا برادری خوش دکھائی دیتی ہے، تاہم عوامی سطح پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت اس فیصلے کے الگ الگ معانی اخذ کر رہے ہیں؛ کوئی اسے کسی اشارے سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی پسِ پردہ حکمتِ عملیوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ بھی تھا کہ حالیہ دنوں میں عدالتیں حکومتی معاملات میں مداخلت سے گریز کر رہی ہیں اور اکثر فیصلے حکومت کے حق میں آتے ہیں، مگر اس کیس میں پنجاب حکومت کو واضح طور پر ایک بڑا سیٹ بیک ہوا، جبکہ عدالتی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔
    پنجاب حکومت اس فیصلے کا توڑ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اس معاملے پر خاصی لے دے ہوئی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ صوبے بھر میں اس قانون پر ہر سطح پر بحث جاری ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں—لوگ حالات و واقعات کو جوڑ کر مختلف تھیوریاں بنا رہے ہیں، جن کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کرنا ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریکِ انصاف کو مذاکرات کی دعوت، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کا دورۂ لاہور—ان سب کو باہم جوڑ کر کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف سے مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ سہیل خان آفریدی کے دورے کو بھی ایک اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کسی سطح سے اجازت لے کر آئے ہیں اور اس دورے کا مقصد پنجاب حکومت کو خبردار کرنا ہے کہ حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔
    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف نے اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے پنجاب کو احتجاج کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ ماضی قریب میں پنجاب میں تحریکِ انصاف کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں تھیں اور پنجاب حکومت کو مکمل فری ہینڈ حاصل تھا۔ اتنا فری ہینڈ جو شاید کسی اور صوبائی حکومت کو میسر نہ تھا۔ اگر تحریکِ انصاف پنجاب کو احتجاجی سیاست کا مرکز بنا لیتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ دباؤ پنجاب حکومت پر ہی پڑے گا۔
    ابھی تک پنجاب حکومت نے تحریکِ انصاف کو کھل کر سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بعض لوگ سہیل خان آفریدی کے دورے کو سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دورۂ لاہور سے مماثل قرار دے رہے ہیں، مگر واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور باہمی مفاہمت کے تحت لاہور آئے تھے اور ان کی سرگرمیاں محدود تھیں۔ اس کے برعکس سہیل خان آفریدی نے تحریکِ انصاف کے ورکرز کو متحرک کرنے کی واضح کوشش کی۔ وہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر گئے، لبرٹی مارکیٹ کا دورہ کیا، جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی (اگرچہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی)، اور پنجاب اسمبلی بھی گئے۔
    ان سرگرمیوں کا مقصد تین نکات پر مبنی تھا:
    اوّل، پارٹی رہنماؤں کو یہ پیغام دینا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوم، مایوس سیاسی ورکرز کو متحرک کرنا۔ سوم، خوف کی فضا کو ختم کرنا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ یا تو اس دورے کی اجازت ہی نہ دیتی، یا پھر سیاسی روایات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے انہیں مدعو کیا جاتا اور محدود مگر باعزت سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی۔ سہیل خان آفریدی کے ساتھ جو مس ہینڈلنگ ہوئی، اس کا تاثر مثبت نہیں گیا۔ پنجاب اسمبلی کے اندر انہیں روکنا مناسب نہیں تھا۔ بہتر یہ تھا کہ ان کے محدود ساتھیوں کے ساتھ باوقار انداز میں اسمبلی کا دورہ کروایا جاتا۔
    اسی طرح بعض صحافیوں کی جانب سے کیے گئے غیر اخلاقی سوالات بھی قابلِ افسوس تھے، جن سے واضح ہوتا تھا کہ یہ سوالات پلانٹڈ تھے اور ان کا مقصد محض تضحیک تھا۔ ایسے سوالات سنجیدہ صحافت کے شایانِ شان نہیں۔ سہیل آفریدی کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ نہ لاہور کی روایت ہے اور نہ ہی پنجاب کے مزاج کے مطابق۔ عوامی ردِعمل بھی اس طرزِ عمل کے حق میں نہیں آیا۔ تحریکِ انصاف اسے اسٹریٹ موومنٹ قرار دے رہی ہے اور اعلان کیا جا چکا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے بعد سندھ اور کراچی جائیں گے، اور ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ تحریکِ انصاف ملک گیر سطح پر متحرک ہونے جا رہی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ان سرگرمیوں کو محدود نہ کیا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کو کہیں نہ کہیں سے کچھ ریلیف مل گیا ہے؟ اس ریلیف کا مقصد کیا ہے، اور مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ تاہم ایک بات طے ہے۔ سیاسی منظرنامے میں اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

    Related Posts

    کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ اور 10 دہشت گرد ہلاک

    "سیاست کریں، اداروں اور شہداء کی تضحیک نہ کریں”: عظمیٰ بخاری کا مولانا فضل الرحمن کے بیان پر شدید ردعمل

    "پاکستان کے کماؤ پوت” فری لانسرز نے ایک ماہ میں کتنے ڈالر کمائے?

    مقبول خبریں

    نتن یاہو سے تعلقات اچھے، لیکن اعتماد میں کسی پر بھی نہیں کرتا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ اور 10 دہشت گرد ہلاک

    "سیاست کریں، اداروں اور شہداء کی تضحیک نہ کریں”: عظمیٰ بخاری کا مولانا فضل الرحمن کے بیان پر شدید ردعمل

    "پاکستان کے کماؤ پوت” فری لانسرز نے ایک ماہ میں کتنے ڈالر کمائے?

    پاکستان کی قیمتی معدنیات میں امریکا، چین اور کینیڈا کی دلچسپی، کوئی ٹھیکا یا مائن کسی کے حوالے نہیں کی گئی: خواجہ آصف

    بلاگ

    ہائی ویز پر تیز ایل ای ڈی لائٹس؛ روشنی یا موت کا سامان؟

    ہماری خاموشی اور معاشرے میں دن بدن پروان چڑھتی ہوئی نا انصافی

    ​”ناکامی کا ذمہ دار کون۔۔۔؟” میاں حبیب کا کالم

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.