Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آئی فون 18 پرو کیسا، کس رنگ کا ہوگا؟

      انسانوں کی چھٹی، مشینوں کا راج: میٹا میں 16 ہزار ملازمین فارغ، کیا اے آئی (AI) آپ کا روزگار بھی چھین لے گی؟

      سیمسنگ کا نیا پینترا: گلیکسی A27 اب جدید ‘پنچ ہول’ ڈسپلے اور پریمیم لک کے ساتھ، مڈ رینج مارکیٹ میں تہلکہ مچانے کو تیار!

      10 کروڑ سال پرانا معمہ حل: آسٹریلیا کے مشہور ڈائنا سار کا ‘نیا چہرہ’ سامنے آگیا، 1300 ہڈیوں نے تاریخ بدل دی!

      مشرق وسطیٰ جنگ سے ارب پتی بھی متاثر، بلوم برگ نے ارب پتیوں کی عالمی فہرست جاری کردی، پہلے نمبر پر کون؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    “وزیرِ اعلیٰ کے پی کا دورۂ پنجاب اور مس ہینڈلنگ“ نامور کالمسٹ، ایڈیٹر میاں حبیب کاتجزیہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    سال کے آخری دنوں میں کئی قابلِ ذکر واقعات رونما ہوئے، لیکن دو واقعات غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے۔ ایک طرف وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے قبضہ گروپوں کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ساتھ ملا کر تیز رفتار فیصلے کیے گئے، جن کے نتیجے میں گھنٹوں میں جائیدادوں کے فیصلے ہوئے اور عوامی سطح پر ان اقدامات کو سراہا گیا۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے ان فیصلوں پر عمل درآمد روکتے ہوئے پراپرٹی اونرشپ قانون کو معطل کیا گیا اور قبضے واپس کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
    اس فیصلے پر وکلا برادری خوش دکھائی دیتی ہے، تاہم عوامی سطح پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت اس فیصلے کے الگ الگ معانی اخذ کر رہے ہیں؛ کوئی اسے کسی اشارے سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی پسِ پردہ حکمتِ عملیوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ بھی تھا کہ حالیہ دنوں میں عدالتیں حکومتی معاملات میں مداخلت سے گریز کر رہی ہیں اور اکثر فیصلے حکومت کے حق میں آتے ہیں، مگر اس کیس میں پنجاب حکومت کو واضح طور پر ایک بڑا سیٹ بیک ہوا، جبکہ عدالتی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔
    پنجاب حکومت اس فیصلے کا توڑ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اس معاملے پر خاصی لے دے ہوئی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ صوبے بھر میں اس قانون پر ہر سطح پر بحث جاری ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں—لوگ حالات و واقعات کو جوڑ کر مختلف تھیوریاں بنا رہے ہیں، جن کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کرنا ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریکِ انصاف کو مذاکرات کی دعوت، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کا دورۂ لاہور—ان سب کو باہم جوڑ کر کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف سے مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ سہیل خان آفریدی کے دورے کو بھی ایک اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کسی سطح سے اجازت لے کر آئے ہیں اور اس دورے کا مقصد پنجاب حکومت کو خبردار کرنا ہے کہ حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔
    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف نے اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے پنجاب کو احتجاج کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ ماضی قریب میں پنجاب میں تحریکِ انصاف کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں تھیں اور پنجاب حکومت کو مکمل فری ہینڈ حاصل تھا۔ اتنا فری ہینڈ جو شاید کسی اور صوبائی حکومت کو میسر نہ تھا۔ اگر تحریکِ انصاف پنجاب کو احتجاجی سیاست کا مرکز بنا لیتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ دباؤ پنجاب حکومت پر ہی پڑے گا۔
    ابھی تک پنجاب حکومت نے تحریکِ انصاف کو کھل کر سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بعض لوگ سہیل خان آفریدی کے دورے کو سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دورۂ لاہور سے مماثل قرار دے رہے ہیں، مگر واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور باہمی مفاہمت کے تحت لاہور آئے تھے اور ان کی سرگرمیاں محدود تھیں۔ اس کے برعکس سہیل خان آفریدی نے تحریکِ انصاف کے ورکرز کو متحرک کرنے کی واضح کوشش کی۔ وہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر گئے، لبرٹی مارکیٹ کا دورہ کیا، جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی (اگرچہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی)، اور پنجاب اسمبلی بھی گئے۔
    ان سرگرمیوں کا مقصد تین نکات پر مبنی تھا:
    اوّل، پارٹی رہنماؤں کو یہ پیغام دینا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوم، مایوس سیاسی ورکرز کو متحرک کرنا۔ سوم، خوف کی فضا کو ختم کرنا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ یا تو اس دورے کی اجازت ہی نہ دیتی، یا پھر سیاسی روایات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے انہیں مدعو کیا جاتا اور محدود مگر باعزت سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی۔ سہیل خان آفریدی کے ساتھ جو مس ہینڈلنگ ہوئی، اس کا تاثر مثبت نہیں گیا۔ پنجاب اسمبلی کے اندر انہیں روکنا مناسب نہیں تھا۔ بہتر یہ تھا کہ ان کے محدود ساتھیوں کے ساتھ باوقار انداز میں اسمبلی کا دورہ کروایا جاتا۔
    اسی طرح بعض صحافیوں کی جانب سے کیے گئے غیر اخلاقی سوالات بھی قابلِ افسوس تھے، جن سے واضح ہوتا تھا کہ یہ سوالات پلانٹڈ تھے اور ان کا مقصد محض تضحیک تھا۔ ایسے سوالات سنجیدہ صحافت کے شایانِ شان نہیں۔ سہیل آفریدی کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ نہ لاہور کی روایت ہے اور نہ ہی پنجاب کے مزاج کے مطابق۔ عوامی ردِعمل بھی اس طرزِ عمل کے حق میں نہیں آیا۔ تحریکِ انصاف اسے اسٹریٹ موومنٹ قرار دے رہی ہے اور اعلان کیا جا چکا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے بعد سندھ اور کراچی جائیں گے، اور ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ تحریکِ انصاف ملک گیر سطح پر متحرک ہونے جا رہی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ان سرگرمیوں کو محدود نہ کیا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کو کہیں نہ کہیں سے کچھ ریلیف مل گیا ہے؟ اس ریلیف کا مقصد کیا ہے، اور مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ تاہم ایک بات طے ہے۔ سیاسی منظرنامے میں اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

    Related Posts

    محمد نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت اہم اجلاس ،مری میں پہلا سکائی گلاس برج بنانے کی منظوری

    جڑواں شہروں میں سیکورٹی ‘ہائی الرٹ’: نور خان ایئر بیس روڈ مکمل سیل، ٹرانسپورٹ معطل اور بڑے ہوٹل خالی کرانے کا حکم

    سرکاری افسر اب بلااجازت بلاگ ،ولاگ ،سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں چلا سکیں گے، نوٹیفیکشن جاری

    مقبول خبریں

    دعا کے ہاتھ میں پازیٹو ٹیسٹ کٹ؟ کیا دیپیکا پڈوکون دوسری بار ماں بننے والی ہیں؟ اتوار کا سب سے بڑا سرپرائز!

    قیامت خیز 72 گھنٹے: 22 اپریل کو امن کا سورج طلوع ہوگا یا بارود کی بارش؟ دنیا سانس روکے ٹرمپ کے اعلان کی منتظر!

    بچوں میں کھانا کھاتے وقت موبائل فون کے استعمال سے موٹاپے اور فیٹی لیور کا خطرہ

    TRUMP IN SITUATION ROOMامریکی صدرکی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو؛ امریکی میڈیا

    جڑواں شہروں میں سیکورٹی ‘ہائی الرٹ’: نور خان ایئر بیس روڈ مکمل سیل، ٹرانسپورٹ معطل اور بڑے ہوٹل خالی کرانے کا حکم

    بلاگ

    ”کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی“ ملک محمد سلمان کا کالم

    ڈی پی اوز کی تعیناتی میں تاخیر،، وجہ بے نقاب، سہیل ظفر چٹھہ کا چھکا، قصور میں بھونچال

    ”پارٹی ابھی ختم نہیں ہوئی“ میاں حبیب کا کالم

    ”پاکستان کا امن مشن“ میاں حبیب کا کالم

    ناقص خوراک اور سست طرزِ زندگی: ہارٹ اٹیک اور فالج کے بڑھتے خطرات

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.