لاہور:وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں،پی ٹی آئی کا طرز سیاست جمہوری نہیں،انتشار پھیلانا ہے،اڑان پاکستان منصوبہ قومی ترقی کا مرکز و محور اور نوجوان ملکی اثاثہ ہیں ، نوجوان نسل کو ماحول دوست ترقی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ موسمیاتی خطرات سے بچا جا سکے ، گرین پروڈکٹیویٹی 2.0 ویژن کا مقصد پاکستانی صنعت کو نہ صرف ماحول دوست بنانا ہے بلکہ اسے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بھی کرنا ہے،حکومت گرین منصوبوں کی تکمیل کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لمز یونیورسٹی میں2 روزہ "انٹرنیشنل کانفرنس آن گرین پروڈکٹیویٹی 2.0” سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ملک خداداد ہمارا گھر ہے ، یہ ملک نہیں تو ہماری سیاست بھی نہیں ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن اور ملکی سیاست ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے ، جس طرح ایک خاندان اور فیملی میں ہر فرد کی اپنی رائے و سوچ ہوتی ہے ، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اختلاف رائے کا حق حاصل ہوتا ہے ، آپس میں اختلافات ہو جائیں تو ملک کے اندر رہتے ہوئے ان اختلاف کا ختم کرنا ہی جمہوریت کا حسن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بہت سخت مارشل لا کا سامنا کیا لیکن دونوں مارشل لائوں سے زیادہ جبر کا ہم نے بانی پی ٹی آئی کے دور میں سامنا کیا،ہم جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں بھی گئے، میڈیا پر بھی پابندیاں لگیں،اس سب کے باوجود اس سیاسی جنگ کو ہم نے ریاست کی حدود میں رہ کر لڑا،آج تک کسی جماعت نے بیرون ممالک جاکر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اورپاکستان کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے، جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی،ایک اناڑی شخص کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا، ہمیں بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ،بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سیاسی انتقام میں اندھی ہو کر اور اپنے مخصوص مقاصد کے لیے عالمی سطح پر ملکی بدنامی کا باعث بن رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں،جب بھی پاکستان کے عالمی برادری سے اچھے تعلقات کی کوشش ہوتی ہے تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،اگر آئی ایم ایف کا پروگرام ہوتا ہے تو تکلیف پی ٹی آئی کو ہوتی ہے یا بھارت کو۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست کو بین الاقوامی سطح پر لے جاکر بدنام کرنا خاص طور پاکستان کے دشمن ملک کو فریق بنانا انتہائی شرمناک ہے، کہتے ہیں ہم بڑے محب وطن ہیں،امریکی کانگریس میں ملک دشمن لابیوں کے کندھوں پر سوار ہو کر پاکستان کے خلاف قرارداد پاس کرانا یہ کیسی محب وطنی ہے،وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں قرار دار کیوں پاس نہیں کرواتے ،وہ امریکی سینٹرز سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی قرارداد کیوں پاس نہیں کرواتے ،انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست ملک دشمنی پر مبنی ہے ، اگر کوئی ریاستی مفادات سے کھیلے گا تو سختی سے نمٹیں گے ۔
احسن اقبال نے کہا کہ خیبر پختونوا میں پی ٹی آئی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔پی ٹی آئی قیادت اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے عمران خان کو استعمال کر رہی ہے اور صوبہ میں اپنی انتظامی ذمہ داریوں میں ناکامی کے بعد اب وہ کبھی ایک سیاسی بیانیے کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اور کبھی اسلام آباد پر چڑھائی کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔میں سمجھتاہوں کہ عوام اب پی ٹی آئی کی حقیقت جان چکے اور وہ ان سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔قبل ازیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپنے قومی گرین پروڈکٹیویٹی 2.0 ویژن پر عملی طور پر عمل پیرا اور ملک کو پائیدار ترقی، صاف توانائی وجدید صنعتی رجحانات کی طرف لے جانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد پاکستانی صنعت کو نہ صرف ماحول دوست بنانا ہے بلکہ اسے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بھی کرنا ہے۔
اس وژن کے تحت حکومت وسائل کے موثر استعمال، توانائی کے بہتر انتظام، کاربن اخراج میں کمی اور سرکلر اکانومی کے فروغ جیسے اہم اہداف پر توجہ دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کا دائرہ تیزی سے وسیع کیا جا رہا ہے، صنعتی یونٹس کو جدید ٹیکنالوجی اور توانائی بچت کے حل اپنانے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے، حکومت گرین ہائیڈروجن، صاف ایندھن اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے استعمال کو بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ملک میں کم کاربن معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نجی شعبے، تعلیمی اداروں، ماحولیاتی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات تیار کر رہی ہے جو پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات اور معاشی مسابقت کو بہتر بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول صرف حکومتی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ صنعت، اکیڈیمیا اور سول سوسائٹی کی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ گرین پروڈکٹیویٹی 2.0 کے تحت ہونے والی اصلاحات آنے والے برسوں میں ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کریں گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا اور پاکستان ماحول دوست ترقی کے عالمی سفر میں موثر کردار ادا کر سکے گا۔احسن اقبال نے توانائی کے موثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، نوجوان نسل کو ماحول دوست ترقی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں پاکستان موسمیاتی خطرات کے لیے بہتر طور پر تیار ہو۔
وفاقی وزیر نے پاکستان میں گزشتہ ادوار میں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے باعث پیش آنے والے نقصانات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ اڑان پاکستان منصوبہ قومی ترقی کا مرکز و محور ہے تاکہ پاکستان کو جدید معیشتوں کی صف میں لا کھڑا کیا جا سکے، اڑان پاکستان اور ویژن 2030 کے تحت ہر شعبے میں جدید ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ اس دوروزہ کانفرنس کا انعقاد لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (ایل ای آئی)پاکستان کی نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او)اور ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (اے پی او)جاپان کے تعاون سے کیا گیا جس میں اے پی او کے رکن ممالک سے 80 سے زائد غیر ملکی مندوبین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرکاری ونجی شعبوں کے سینئر ماہرین ،اٹلی، جاپان، تھائی لینڈ، چین اور پاکستان سمیت 21 ممالک کے نمائندوں، وزارت صنعت و پیداواری امور، وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارتِ توانائی(پاور ڈویژن)، وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی اعلی قیادت نے شرکت کی ، پائیدار ترقی، سرکلر اکانومی کی جدتوں اور پروڈکٹیویٹی پر مبنی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے مشاہدات اور تجربات شیئر کئے۔
کانفرنس کا مقصد صنعتی شعبے میں کاربن اخراج میں کمی، گرین ہائیڈروجن کا کردار، ایشیا میں پائیدار وسائل کے استعمال کا فروغ، پائیدار ترقی کے لیے مالیاتی اداروں کی ذمہ داریاں وصنعتی پیداوار، مسابقت اور برآمدات میں اضافے کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس فریم ورک کے نفاذکے حوالے سے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا، علم کے تبادلے کو فروغ دینا اور کم کاربن و پائیدار صنعتی ترقی کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا تھا۔کانفرنس سے دیگر مقررین بھی خطاب کیا۔آخر میں شرکاء میں سوینیئرز جبکہ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض چوہدری نے وفاقی وزیر کو شیلڈ پیش کی۔

