کوئٹہ :بلوچستان کے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں افغان اڑیال نسل سے تعلق رکھنے والے جس پہاڑی دنبے کا غیر قانونی شکار کیا گیا ہے ممکن ہے کہ وہ خشک سالی کے باعث انسانی آبادی کے قریب آ گیا تھا۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے بتایا کہ جس علاقے میں افغان اڑیال کا شکار کیا گیا ہے وہ انسانی آبادی سے زیادہ دور نہیں۔
افغان اڑیال کے غیر قانونی شکار کے حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق 23 نومبر کو مقامی آبادی کی جانب سے قلعہ سیف اللہ میں محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کو شکاریوں کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔
محکمہ جنگلی حیات کے عہدیدار فاروق جدون نے بتایا کہ اس اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے گڑانگ میں شنگلونہ کے علاقے سے چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن کا تعلق ضلع لورالائی اور دُکی سے ہے۔
گرفتار ملزمان کے قبضے سے ذبح شدہ اڑیال اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف وائلڈ لائف کے ایس ڈی او محمد حسین کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ قلعہ سیف اللہ کے جن علاقوں میں یہ جانور پائے جاتے ہیں وہاں مارخور بھی ہوتے ہیں۔ تاہم مارخور پہاڑوں کے اونچے حصے میں رہتے ہیں جبکہ افغان اڑیال نچلے حصوں میں رہتے ہیں۔
نیاز کاکڑ کا کہنا ہے کہ جس اڑیال کا غیر قانونی شکار کیا گیا وہ شاید خشک سالی کے باعث خوراک کی تلاش میں اس علاقے کی جانب آ گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اگر سبزہ ہو تو یہ جانور اس سے پانی کی کمی پورا کر سکتا ہے لیکن اگر سبزہ نہ ہو تو یہ پانی کی تلاش میں دور نکل سکتے ہیں۔
محکمہ جنگلات کے کنزرویٹر کا کہنا ہی کہ مارخور کی طرح افغان اڑیال کی بھی ٹرافی ہنٹنگ کی جاتی ہے جو کم سے کم 20 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ایک اور اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب عرب شہزادے بلوچستان میں شکار کے لیے آتے ہیں یا کسی وی آئی پی نے شکار کرنا ہوتا ہے تو افغان اڑیال کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

