خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ جاری ہے جس میں صوبائی گورنر سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شریک ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پہلی مرتبہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں اور انھیں امن جرگہ میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔
اس جرگے سے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو برا لگتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط ہوتے آئے ہیں، ان فیصلوں سے ابھی تک دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمیں بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہوں گے اور دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری کوشش امن کے لیے ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے میں پائیدار حل نکلے گا، امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا۔
ان کا کہنا تھا ہم چاہتے تھے کہ اس پالیسی میں شفٹ آنا چاہیے، وہ شفٹ بند کمروں سے نکل کر آئے گا، سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھا کر پالیسی بنائی جائے، اگر پھر اس پالیسی پر عملدرآمد ہوگا تو کوئی حل نکلے گا، وہ پالیسی پھر تمام لوگوں کو قابل قبول ہوگی اور خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سب نے قربانیاں دی ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، تمام سیاسی لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، کسی نے بیٹے، کسی نے شوہر اور کسی نے والد کو کھویا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ عوام ہمارے ہیں، سیاست ہر ایک کی اپنی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ ہے، جب یہاں بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا، یہاں بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی ہے، دہشت گردی کے خلاف عوام، سیاستدان اورسکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں، سب نے قربانیاں دیں تو 2018 میں امن قائم ہوا تھا، ابھی ایک دفعہ پھر دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا پاک-افغان مذاکرات کو ہم نے خوش آئند قرار دیا ہے، ہماری کوشش امن کے لیے ہے، جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ این ایف سی شئیر 400 ارب روپے بنتا ہے، ہمیں نہیں مل رہا ہے، اگر ایک فیصد دہشتگردی کے باعث ملتا ہے تو کسی کو اس کا پوچھنے کا حق نہیں ہے۔

