اسلام آباد :قومی اسمبلی نے بھی 27ویں آئینی ترمیمم کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل سینیٹ نے اس بل کی منظوری دی تھی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں 27 آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی۔
اپوزیشن نے آج بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران 27ویں ترمیم کے حوالے سے احتجاج کیا اور ترمیم کے خلاف نعرے لگائے۔
وزیر قانون نے آج کے اجلاس میں یہ وضاحت بھی کہ آئینی ترمیم کے باوجود جسٹس یحیٰ آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس رہیں گے تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا ان کے عہدے خالی کرنے کی صورت میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے جو سینیئر چیف جسٹس ہوں گے وہی ملک کے چیف جسٹس کہلائیں گے۔
انھوں نے اس حوالے سے ترمیم بھی پیش کر دی جسے قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔
234 اراکین نے ترمیم کے حق میں جبکہ چار نے مخالفت میں ووٹ دیاجبکہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ واناکیڈٹ کالج حملے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کردی، حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے، اساتذہ اور طلباء کو بحفاظت نکالاگیا،سیکیورٹی فورسز کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو قوم کی جانب سےمبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 40سال افغانوں کی مہمان نوازی کا صلہ آج دنیا دیکھ رہی ہے، دہشت گردوں کولگام دیں ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری میں تعاون پر صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو کا شکرگزار ہوں، اور ڈاکٹرخالدمگسی، خالدمقبول صدیقی، ایمل ولی خان، فاروق ستار کا بھی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19سال بعد پورا ہوا، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اختلاف کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ہم احترام کرتے ہیں، دشنام طرازی اورگالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں ملکر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعدبلاول بھٹو کی قیادت نے پاکستان کامؤقف دنیا کے سامنے رکھا، پاکستان نےداخلی محاذکے ساتھ ساتھ خارجہ محاذپربھی کامیابی حاصل کی اور پاکستان کا وقارعالمی سطح پر بلند ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف سیدعاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا، پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں، وہ اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو سے مکمل اتفاق ہے کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، وہ تمام امور جن سےوفاق مضبوط ہو میں ان کا حامی ہوں
۔

