Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

      ہوشیار! آپ کے برابر سے گزرتی گاڑی آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے: کینیڈا میں ’ایس ایم ایس بلاسٹر‘ گینگ پکڑا گیا، 13 ملین فون متاثر!

      ڈیجیٹل دنیا میں ’مادری زبانوں‘ کا مسیحا: رحمت عزیز خان چترالی کا وہ کارنامہ جس نے پاکستان کا نام روشن کر دیا!

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

      حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    "پنجاب کا مستقل انتظامی کلچر: افسر بدلتے ہیں، خوشامدی نہیں

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر : اسد مرزا

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے


    پاکستان میں کئی روایات دم توڑ چکی ہیں لیکن خوشامد کا کلچر آج بھی ویسے ہی زندہ ہے جیسے یہ کبھی مرنے کے لیے پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ اگر کوئی روایت ہے جسے پورے وقار، احترام اور محنت سے نبھایا جاتا ہے تو وہ یہی ہے۔پنجاب ہو یا باقی پاکستان، جیسے ہی کوئی نیا افسر تعینات ہوتا ہے تو عوامی خدمت کا پہلا مرحلہ نہ اسکولوں کی حالت سدھارنا ہوتا ہے نہ ہسپتالوں کی مرمت بلکہ پھولوں کے ہار اور مٹھائی کے ڈبے لانا ہوتا ہے۔

    دفتر کا ماحول ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے کسی بزرگ ولی اللہ کی آمد ہو گئی ہو۔ لائنیں لگتی ہیں، دعاؤں کی برسات ہوتی ہے، اور یوں لگتا ہے کہ علاقے میں خوشحالی کے دروازے کھلنے ہی والے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کون ہوتے ہیں؟ نئے افسر کے ذہن میں یہی الجھن پیدا ہوتی ہے کہ یہ کیسی عوام ہے جو مجھے جانتی بھی نہیں اور پھر بھی اتنی محبت دکھا رہی ہے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ عوام نہیں بلکہ وہ مخصوص طبقہ ہے جس کے کام جعلی ہیں، مقدمے زیر التوا ہیں اور کاغذی فائلیں قانون کی دھوپ میں سوکھ رہی ہیں۔

    یہ لوگ وہ ہیں جنہیں تبادلے کا حکم نامہ سرکاری نوٹیفکیشن سے پہلے معلوم ہو جاتا ہے۔محنت کش، شریف اور ایماندار شہری ان جلوسوں میں شاذ ہی نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی قسمت میں صرف درخواستیں دینا، فائلیں اٹھانا اور دفاتر کے چکر لگانا ہے۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ نئے افسر کو ہار پہنائیں یا مٹھائی بانٹیں۔ خوشامد کی یہ سہولت صرف ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو کل ہی افسر کی چوکھٹ پر غیر قانونی کام کے لیے حاضری دینے والے ہیں۔

    ایک اعلی پولیس بیمار کیاہوا اس کی تیمارداری کے لئے آنے والے صاحب حثیت افراد قیمتی تحائف اور درجنوں پھلوں کی پیٹیاں بھی لے آئے بعد میں یہ پیٹیاں پھل والے کو فروخت کرنا پڑیں۔لاہور کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ایک شخص عمرہ کر کے واپس آیا اور بطور تحفہ تسبیح، جائے نمازآب زم زم اور کھجوروں کے ساتھ نیا ماڈل آئی فون بھی پیش کیا۔ افسر نے پوچھا کہ یہ عمرہ کی سعادت تھی یا موبائل کی تجارت تب موبائل واپس کر دیا گیا۔ ایک اور افسر نے کہا کہ اب تحائف میں مہنگے برانڈ کے خواتین کے کپڑے بھی آتے ہیں، ساتھ رسید بھی تاکہ اگر رنگ پسند نہ آئے تو تبدیل کیا جا سکے۔

    کئی بار تعلقات اتنے ذاتی ہو جاتے ہیں کہ افسران کے اہل خانہ کے ساتھ بھی دعوتیں اور مراسم بڑھ جاتے ہیں۔یہ کلچر بعض اوقات اتنا مہنگا پڑتا ہے کہ لوگ اپنے کاروبار بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لاہور کے ایک ہوٹل مالک جس کے کئی ہوٹلز تھےنے بتایا کہ ہر افسر کو ماہانہ رشوت اور تحفے دینا اس کے لیے ممکن تھا، لیکن جب نئے افسر سے بھی گہری دوستی بن گئی تووہ نئی پوسٹنگ میں بھی جاکر تحائف کا تقاضا کرتا ایسے میں ایک کے بجائے دو نذرانے دینے پڑتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے تنگ آ کر کاروبار ہی بدل لیا۔

    افسران جلد ہی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ خوشامد کا یہ قبیلہ دراصل کرسی کا عاشق ہے، شخص کا نہیں۔ جو آج پھولوں کے ہار ڈال رہے ہیں، کل وہی ان کے تبادلے پر جشن بھی منائیں گے۔ خوشامد کا یہ کاروبار محبت نہیں بلکہ وفاداری کا سب سے مختصر معاہدہ ہے جو صرف کرسی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔لہذا پنجاب میں جب بھی کسی افسر کا تبادلہ ہو، دو تقریبات لازمی ہوتی ہیں۔ پہلی، آمد پر خوشامد کا جشن جہاں ہار، پھول، مٹھائیاں اور میٹھے وعدے ہوتے ہیں۔ دوسری، رخصتی پر خوشامد کا جنازہ جہاں افسوس کے بیانات ہوتے ہیں اور اگلے افسر کے لیے پھر وہی قافلہ تیار کھڑا ہوتا ہے۔آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی کسی ایماندار افسر کے انتظار میں ہیں یا صرف اس کرسی کے جس پر بیٹھنے والا ہمارے کام نکلوائے۔ کیونکہ خوشامد کی سیاست میں اصول سادہ ہے، افسر بدلتا ہے، خوشامدی نہیں

    Related Posts

    سابق اینکر حال سیاستدان اقرار الحسن کو جواب دینے پر ایف آئی اے اہلکار چیمہ معطل

    ڈیرہ غازیخان، خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش ،سب صحت مند

    بہاولنگر : 13 سالہ بچی سے بداخلاقی ، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والا کزن گرفتار

    مقبول خبریں

    سابق اینکر حال سیاستدان اقرار الحسن کو جواب دینے پر ایف آئی اے اہلکار چیمہ معطل

    فساد برپا کرنیوالے لالچی غیر ملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ میں ہے، مجتبیٰ خامنہ ای

    ” مائیکل “کنگ آف پاپ کا عالمی باکس آفس پر تاریخی قبضہ:  عالمی ریکارڈز کے پرخچے اڑا دیے!جعفر جیکسن کی لازوال پرفارمنس

    کراچی کے بل بورڈز پر ’اشتہاری جنگ‘: شان فوڈز کے دعوے پر فلک فوڈز کا ایسا کرارا جواب کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا!

    ڈالر کی گراوٹ اور عالمی تناؤ: سونے کی قیمتیں ایک ماہ کی کم ترین سطح سے اچانک بحال، خام تیل کی تپش نے سرمایہ کاروں کو چونکا دیا!

    بلاگ

    کے پی آئی کا دباؤ،، پنجاب میں گورننس کارکردگی کے بجائے نمبرز تک محدود

    موبائل فون اور دم توڑتی پرائیویسی۔!!!!

    لاہور، میانوالی، ننکانہ صاحب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات

    متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کیوں؟

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.