بھریہ سٹی— رپورٹر: مجاہد علی مغل

گاؤں بیگ محمد پنہور میں قائم پی پی ایچ آئی (PPHI) سینٹر پر مبینہ طبی غفلت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ مقامی لوگوں اور ورثاء کے مطابق، کچھ ہی عرصے کے دوران یہاں ڈلیوری کے دوران تین خواتین اپنے معصوم بچوں سمیت جاں بحق ہو چکی ہیں، جس کے باعث کئی گھر اجڑ گئے اور نومولود بچے ماں کی ممتا سے محروم ہو گئے ہیں۔
متاثرہ ورثاء کے مطابق، چار روز قبل سلماں سولنگی نامی خاتون حمل کے دوران معمول کے چیک اپ کے لیے پی پی ایچ آئی سینٹر بیگ محمد پنہور پہنچی تھی۔ وہاں موجود مڈوائف سیما وسطڑو نے مبینہ طور پر زبردستی ڈلیوری کرانے کا کہا۔ورثاء کا کہنا ہے کہ سلماں کی والدہ نے واضح کیا تھا کہ وہ صرف چیک اپ کے لیے آئی ہیں، تاہم مبینہ طور پر شوہر اور والدہ کی اجازت یا رضا مندی کے بغیر ڈلیوری کا عمل شروع کیا گیا۔ اگرچہ سلماں کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، لیکن چند ہی منٹوں بعد وہ معصوم بچہ جاں بحق ہو گیا۔ ورثاء نے شدید الزام عائد کیا ہے کہ اس نازک حالت کے باوجود سلماں کو چند گھنٹے بھی اسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی، بلکہ اسے حالتِ غیر میں موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھر روانہ کر دیا گیا۔ راستے میں زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے سلماں بھی دم توڑ گئی۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان اور علاقہ مکینوں نے حکومتِ سندھ اور اعلیٰ طبی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے انسانی جانوں سے کھیلنے کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

