ملتان (رپورٹ: ملک جابر عباس)
حکومتِ پنجاب کی جانب سے نکاح خواں حضرات کے لیے 200 روپے فیس مقرر کرنے کے خوش آئند اقدام کے ساتھ ہی یونین کونسلز میں نکاح نامے کے اندراج اور کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے سرکاری مقررہ فیس سے زائد رقم وصول کیے جانے کی شکایات بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔اس اہم عوامی مسئلے پر آواز اٹھاتے ہوئے سماجی و عوامی نمائندہ ملک جابر عباس نے حکومتِ پنجاب، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ اگر نکاح خواں حضرات کی فیس باقاعدہ مقرر کی جا سکتی ہے تو یونین کونسلز کی سطح پر ہونے والی زائد وصولیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر لائحہ عمل کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ملک جابر عباس نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو نکاح نامے کے اندراج اور میرج سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے تمام مقررہ سرکاری فیسوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے تمام یونین کونسلز کے دفاتر میں سرکاری فیسوں کا شیڈول نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے اور زائد وصولیوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیر بلدیات اور محکمہ لوکل گورنمنٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فی الفور نوٹس لیا جائے اور اگر کہیں بھی سرکاری فیس سے زائد رقم وصول کی جا رہی ہے تو اس میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔آخر میں ملک جابر عباس کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور ان کا مقصد کسی فردِ واحد یا ادارے پر الزام تراشی کرنا نہیں بلکہ غریب عوام کو ان کے آئینی و قانونی حقوق کے مطابق سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

