تہواروں کی خوشیاں جہاں زندگی میں رنگ بھر دیتی ہیں، وہیں ان کے اختتام پر صحت اور بالخصوص جلد (Skin) کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیوالی کے بعد فضا میں بڑھتی ہوئی آلودگی، اسموگ اور روایتی کھانوں کے بے دریغ استعمال کے باعث جلد سے متعلق مسائل میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرینِ صحت اور جلد کے امراض کے ماہرین نے شہریوں کو اس حوالے سے خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
جلد متاثر ہونے کی اہم وجوہات:
-
آتش بازی، پٹاخوں اور فیکٹریوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی اسموگ میں موجود زہریلے ذرات جلد کے مساموں (Pores) میں جمع ہو جاتے ہیں، جو جلدی انفیکشن اور الرجی کا سبب بنتے ہیں۔
-
تہواروں کے دوران مٹھائیوں، تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی اشیاء کے استعمال سے جسم میں ٹوئنز (Toxins) بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے اور پھنسیاں نکلنے لگتی ہیں۔
-
نیند کی کمی: تقریبات اور رات گئے تک جاگنے کی وجہ سے نیند کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے، جس سے جلد اپنی تروتازگی کھو دیتی ہے اور سیاہ حلقے (Dark Circles) نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
-
ہیوی میک اپ اور کیمیکل سے بھرپور مصنوعات کا طویل استعمال جلد کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
جلد کو محفوظ رکھنے اور چمک بحال کرنے کے آسان طریقے:
-
دن میں کم از کم دو بار ہلکے فیس واش سے چہرہ دھوئیں تاکہ آلودگی اور گرد و غبار کے اثرات زائل ہو سکیں۔
-
ہائیڈریشن برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی اور تازہ جوس کا استعمال کریں تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوں۔
-
جلد کی نمی کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب موائسچرائزر یا قدرتی ایلوویرا جل کا استعمال کریں۔
-
اپنی خوراک میں تلی ہوئی اور میٹھی چیزوں کے بجائے تازہ پھل، سبزیاں اور سلاد کا استعمال بڑھائیں۔
-
جلد کی قدرتی مرمت اور تروتازگی کے لیے 7 سے 8 گھنٹے کی پرسکون نیند انتہائی ضروری ہے۔
-
چہرے کی رونق بحال کرنے کے لیے بیسن، ہلدی اور دہی پر مشتمل فیس ماسک کا ہفتے میں ایک بار استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تھوڑی سی توجہ اور احتیاط سے کام لیا جائے تو تہواروں کے بعد بھی جلد کو صحت مند اور شاداب رکھا جا سکتا ہے۔

