واشنگٹن:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ملنے والی غیر متوقع ناکامی اور شکست کے بعد وائٹ ہاؤس کے اندرونی حلقوں میں زبردست اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این (CNN) کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں اور سینئر حکام کے درمیان تلخی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ حالات ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار کی افراتفری اور اندرونی سازشوں کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔
انتخابی نتائج پر شدید برہم صدر ٹرمپ نے اپنی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے، حالانکہ اس سے قبل انہوں نے وائلز کو عہدے پر برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔
سوزی وائلز کی روانگی کے بعد اسٹیفن ملر کی ترقی اور انتظامیہ میں بڑھتی ہوئی مدا خلت نے وائٹ ہاؤس میں اندرونی طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔
سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ، جن کے سوزی وائلز کے ساتھ تعلقات کافی عرصے سے خراب بتائے جا رہے تھے، نے وائلز کی برطرفی پر کھلے عام خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس اب امریکی کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ جنوری سے ڈیموکریٹس کے پاس کمیٹیوں کے ذریعے تحقیقات اور طلب نامے جاری کرنے کے مکمل اختیارات ہوں گے، جس کے باعث پینٹاگون کے سیکرٹری پیٹ ہیگسیٹھ کو اپنے خلاف ممکنہ مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انتخابات ختم ہو چکے ہیں، لیکن وائٹ ہاؤس میں ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے اور انتظامیہ کی مستقبل کی سمت کا تعین کرنے کے لیے مختلف دھڑوں کے درمیان جاری یہ جنگ مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
مڈٹرم میں شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں تلواریں نکل آئیں!شکست کا ملبہ ایک دوسرے پر: چیف آف اسٹاف سوزی وائلز برطرف

