برسلز/لندن: یورپ کے مختلف ممالک میں سپر مارکیٹوں کے اسمارٹ کولنگ سسٹمز اور فریزرز پر ہونے والے منظم سائبر حملوں نے خوراک کی سپلائی چین کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان سائبر حملوں کے نتیجے میں متعدد ممالک میں ریٹیل اسٹورز کے فریج اور کولنگ سسٹمز خراب ہو گئے ہیں، جس سے لاکھوں روپے مالیت کی خوراک کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے ایک مربوط انداز میں کم از کم 7 سے 8 یورپی ممالک—جن میں بیلجیم، لکسمبرگ، سویڈن، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، فن لینڈ، ایسٹونیا اور پرتگال شامل ہیں—کی سپر مارکیٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس بحران کی زد میں آنے والے بڑے ریٹیل گروپس میں Ahold Delhaize، Carrefour، Coop، ICA، Spar اور SuperValu شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فرانس اور امریکہ میں بھی ایسے ہی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، سائبر حملے کے دوران ہیکرز نے ریموٹ ایکسس (Remote Access) کا استعمال کرتے ہوئے فریزرز اور کولنگ سسٹمز کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھا کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا۔ درجہ حرارت میں اس اچانک اور خطرناک اضافے کے باعث گوشت، سبزیاں اور دیگر حساس اشیائے خوردونーフ یا تو مکمل طور پر خراب ہو گئی ہیں یا ان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ چینز کو کروڑوں یوروز کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سپر مارکیٹس کے مرکزی اسمارٹ کولنگ کنٹرولرز (جیسے Danfoss یا Copeland/Dixell سسٹمز) کو ہدف بنایا گیا، جو انٹرنیٹ اور ریموٹ نیٹ ورکس کے ذریعے آپریٹ ہوتے ہیں۔
یورپی یونین کے حکام نے ان سائبر حملوں کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ براعظم کی فوڈ سپلائی چین کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ متاثرہ ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ تمام سپر مارکیٹس کو اپنے ڈیجیٹل سسٹمز اور نیٹ ورکس کو فوری طور پر محفوظ (Secure) بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

