بھارت کی ریاست بہار کے ضلع بیگوسرائے میں خستہ حال اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے عاجز آکر مقامی دیہاتیوں نے احتجاج کا ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھا طریقہ اپنایا ہے۔ سڑکوں کے بڑے بڑے گڑھوں کو تالاب اور جھیل کا روپ دیکھ کر غصے میں مبتلا عوام نے ان کا نام حکمراں جماعت (بی جے پی) کے بڑے رہنماؤں کے نام پر رکھ دیا ہے۔ یہاں طویل عرصے سے شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر بنے گڑھے اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ذرا سی بارش میں ان میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے راہگیروں اور گاڑیوں کے لیے یہ کسی تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی مبینہ عدم توجہی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے نوجوانوں اور دیہاتیوں نے مرکزی وزیر و مقامی رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ اور بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی کندندان کمار کی تصاویر والی تختیاں تیار کیں۔ اس کے بعد سڑک کے مختلف گڑھوں پر جاکر باضابطہ بورڈ لگائے گئے:ایک بڑے گڑھے کا نام ”گری راج کنڈ“ رکھا گیا۔دوسرے بڑے گڑھے کا نام ”کندن کنڈ“ کے طور پر درج کیا گیا۔اس احتجاج کی ویڈیوز اور تصاویر اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور عوام میں شدید موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے سڑک کی تعمیر و مرمت کے لیے التماس کی جا رہی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ دیہاتیوں نے انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد از جلد اس خستہ حال سڑک کی مرمت نہ کی گئی تو وہ ایک وسیع پیمانے پر سخت احتجاج اور تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
بہار: ٹوٹی سڑکوں اور گہرے گڑھوں سے پریشان دیہاتیوں کا انوکھا احتجاج، نام بی جے پی لیڈران’گری راج کنڈ‘ اور ’کندن کنڈ‘ رکھ دیے

