واشنگٹن:
امریکہ میں انتہائی اہم اور فیصلہ کن وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے بالکل قریب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے کسانوں اور زرعی پروڈیوسرز کے لیے 15 ارب ڈالر (تقریباً 1.3 لاکھ کروڑ روپے) سے زائد کے بھاری بھرکم مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
سیاسی تجزیە کاروں کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ٹیرف کی پالیسیوں اور بین الاقوامی کشیدگی کے باعث ڈیزل، کھاد اور زرعی آلات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات سے قبل روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے گڑھ سمجھے جانے والے دیہی علاقوں اور زرعی ریاستوں میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیش نظر اس پیکج کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔
-
2025 کی فصل کے لیے مکئی، سویابین، گیہوں اور چاول کے اہل کسانوں کے لیے 13.8 ارب ڈالر کے سیفٹی نیٹ پروگرامز کا اعلان کیا گیا ہے۔
-
پیکج کے تحت کسانوں اور مچھلی کا کاروبار کرنے والوں کے لیے کم از کم 5 ارب ڈالر کے ضمانتی قرضے (Guaranteed Loans)، جبکہ کنزرویشن اسکیموں کے لیے 1.8 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
-
حکومت تقریباً 472.5 ملین ڈالر کی زرعی اجناس خود خرید کر رفاہی اور فلاحی اداروں کے حوالے کرے گی تاکہ کسانوں کو براہ راست مالی ریلیف مل سکے۔
-
کھاد مینوفیکچرنگ اور میٹ پروسیسنگ یونٹس کے فروغ کے لیے بھی کروڑوں ڈالر کی گرانٹس مختص کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اگرچہ معاشی اعتبار سے کسانوں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انتخابات کے عین قریب یہ اعلانات دیہی ووٹرز کی رائے کو کتنا تبدیل کر پاتے ہیں۔

