تہران :ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر ’غیر مجاز راستے‘ سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔
بیان کے مطابق ان میں سے ایک جہاز ایک ’سپر ٹینکر‘ تھا، جو شدید دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور جل رہا ہے۔
سپاہ پاسداران نے اپنے سابقہ بیانات کی طرح ان جہازوں پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’خفیہ طور پر‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے چند گھنٹے قبل ایک جہاز کو ایک ’نامعلوم شے‘ کے نشانہ بننے کی اطلاع دی تھی۔
عالمی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے وینگارڈ کے مطابق متاثرہ جہازوں میں سے ایک پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ دھماکے اور آگ لگنے کے بعد اس کا کچھ حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔
دوسری جانب، حالیہ ہفتوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ امریکی فوج کا موقف ہے کہ ایران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

