سیالکوٹ/لاہور: سیالکوٹ کے فراز کرکٹ گراؤنڈ میں شادی کی تقریب کے دوران مچنے والی تباہ کن بھگدڑ کے مقدمے میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد معروف ٹک ٹاکر انصر محمود عرف ‘مسٹر پتلو’ کی نامعلوم مقام سے ایک جذباتی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ویڈیو میں ٹک ٹاکر نے اپنی جان کو درپیش شدید خطرات کا اظہار کرتے ہوئے فوج کے سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مداخلت اور انصاف کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ اس واقعے میں گاڑی اور موٹر سائیکلوں کی قرعہ اندازی کا لالچ دے کر بھیڑ اکٹھی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں مچنے والی بھگدڑ سے 1 شہری جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہو گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مسٹر پتلو کو شدید تکلیف اور آنسوؤں کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے:
ٹک ٹاکر نے سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا، "ہو سکتا ہے یہ میری آخری ویڈیو ہو۔ مجھے مار دیا جائے گا یا پھر میں خودکشی کر لوں گا۔””بڑے بڑے لوگ مجھے استعمال کر کے اکیلا چھوڑ گئے”
مسٹر پتلو نے روتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے بااثر لوگ جو ان کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کا استعمال کرتے رہے، اب اس مصیبت کی گھڑی میں انہیں بالکل اکیلا چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔
کل ڈسکہ میں ھونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ھے۔ایک ٹک ٹاکر جس کو پتلو کے نام سے پکارا جاتا ھے اپنے شادی کی تقریب پہ قیمتی انعامات اناؤنس کرکے جسمیں بھاری کیش بھی شامل ھے پبلک کو اکٹھا کر لیا ۔ یہ سارا ڈرامہ اس ٹک ٹاکر نے مزید کمائی کے لئے کیا ۔ انعامات اس کی انویسٹمنٹ تھی اور کمائی سوشل میڈیا سے۔علاقہ کے غریب عوام کی غربت کا مذاق بنایا گیااور ایک بڑے ھجوم میں بھگدڑ میں دو انسانی جانیں گئیں اور درجنوں لوگ زخمی ھوئے۔ ٹک ٹاکر مفرور ھے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے قانون کو بے اثر بنا رہا ھے۔
بے لگام سوشل میڈیا معاشرے اور ریاست کے لئے زہر قاتل ثابت ھو سکتا اسکا احتساب ھونا چاہئیے۔
یہ ٹک ٹاکر کروڑوں نہیں اربوں کما رہے ھیں کیا ٹیکس قوانین انُ کو ریگولیٹ کر رہی ھیں؟— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 1, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ایک دور دراز گاؤں میں اکیلے موجود ہیں اور ان کی جسمانی حالت ایسی ہے کہ وہ بستر سے اٹھنے اور چلنے سے بھی قاصر ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ فی الحال پولیس کے سامن پیش نہیں ہوسکتے
ویڈیو پیغام کے اختتام پر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے واقعے میں اپنے کسی بھی قسم کے قصور یا ذمہ داری سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کا مقصد صرف تقریب کو کور کرنا یا حصہ بننا تھا، بھگدڑ کے نظام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
سیالکوٹ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد دیگر 6 ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مسٹر پتلو کا یہ ویڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد پولیس نے ان کی تکنیکی لوکیشن کا سراغ لگا کر گرفتاری کے لیے چھاپوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

