امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی والی 24 تنصیبات کی 274 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اخبار کی تفصیلی سیٹلائٹ تصاویر اور فوجی معلومات پر مبنی تحقیقات کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا، جہاں کم از کم 13 فوجی تنصیبات کی 119 عمارتیں ابتدائی 2 ہفتوں میں متاثر ہوئیں، جبکہ مجموعی طور پر 20 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 17 جولائی کو اردن کے موافق السطی ایئر بیس پر ایرانی حملے میں 3 امریکی فوجی مارے گئے اور کم از کم 19 عمارتوں کو نقصان پہنچا؛ بعد ازاں ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ان عمارتوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی رہائش پذیر تھے، اور اس کی میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کی درستگی بھی بہتر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ایران جنگ پر 16 اکتوبر تک امریکی اخراجات 47.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ فوجی اڈوں کے نقصانات کا تخمینہ پینٹاگون نے کم از کم 5 ارب اور بعض اندازوں کے مطابق 15 ارب ڈالر تک لگایا ہے؛ صرف عمارتوں کی تعمیرِ نو پر 4 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوسکتے ہیں۔ ایران نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر، کویت کے کیمپ عارفجان و کیمپ بوہرنگ اور قطر کے العدید ایئر بیس سمیت متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امریکہ کو کئی اڈوں سے اپنے فوجی اہلکار منتقل یا واپس بلانا پڑے۔ جولائی میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران نے اپنی سرحدوں سے سینکڑوں میل دور اردن کے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا اور 7 جولائی سے 28 اگست تک ایرانی میڈیا نے امریکی تنصیبات پر 40 سے زائد حملوں کے دعوے کیے، جن میں تین چوتھائی سے زیادہ مخصوص عمارتوں اور فوجی رہائش گاہوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تھے۔ دوسری جانب ایران اپنے تباہ شدہ میزائل اڈوں اور پیداواری تنصیبات کی بحالی اور زیرِ زمین میزائل ذخائر نکالنے میں مصروف ہے، جبکہ امریکہ کے میزائل شکن انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہو رہے ہیں؛ اسی تناظر میں پینٹاگون ایران کی پہنچ سے دور نئے فوجی اڈے قائم کرنے اور کویت و سعودی عرب سے اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں امریکی اتحادیوں کی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں
ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 فوجی ہلاک،400 زخمی امریکی اڈوں کی 274 عمارتیں تباہ، وال اسٹریٹ جرنل کی چشم کشا رپورٹ

