پیرس :فرانس کی فٹ بال ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کو آمر قرار دینے سے متعلق اپنے تبصرے پر شدید ردعمل کے بعد معذرت کرلی۔
فرانسیسی پوڈکاسٹ کی ایک ویڈیو میں جسے بعد میں ہٹا دیا گیا ایمباپے ایک مزاحیہ میم کا ذکر کرتے سنائی دیتے ہیں، جس میں ان کے چہرے کو ایک شخص کی تصویر پر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ کسی چینی آمر کی تصویر تھی۔
سفارتی اور معاشی دباؤ کے بعد نہ صرف ایمباپے بلکہ ٹاک شو "دی برج” کی انتظامیہ نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وہ ویڈیو ہٹا کر چینی شائقین اور ایمباپے سے معافی مانگ لی ہے۔
یاد رہے کہ فٹبال کی دنیا میں ایمباپے پر رئیل میڈرڈ اور میڈیا میں ان کے اثر و رسوخ کے باعث شائقین نے انہیں "ڈکٹیٹر” کا لقب دے رکھا ہے اور ان کے چہرے مختلف نفاذِ قانون یا عسکری حکمرانوں کی تصاویر پر لگا کر میمز بنائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران ان کے ساتھی کھلاڑی عثمان دیمبیلے نے بھی انہیں سابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے حکمران کے نام پر ‘موبوتو’ کہہ کر مذاق بنایا تھا۔
یادرہے پوڈ کاسٹ نشر ہوتے ہی متعدد چینی نشریاتی اداروں نے ایمباپے اور سپین کی فٹبال لیگ ‘لا لیگا’ (LaLiga) کی کوریج کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ جبکہ کئی عالمی اور مقامی برانڈز نے ایمباپے کے ساتھ اپنے تشہیری معاہدے اور اشتہارات ہٹا لیے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایمباپے کی معافی سے قبل کہا کہ "ایسے الفاظ اور اقدامات جو چینی عوام کے جذبات کو مجروح کریں، ان کی چینی معاشرے کے تمام طبقوں کی طرف سے مخالفت قدرتی امر ہے۔”
ماؤ زے تنگ کے میم سے متعلق توہین آمیز تبصرہ : سٹار فٹ بالر ایمباپے نے چین اور چینی عوام سے معافی مانگ لی

