لاہور : پاکستان کے پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر اور خواتین کی خودمختاری کی تاریخ میں ایک اہم اور روشن باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ لاہور کی تاریخی اورینج لائن میٹرو ٹرین اب ایک 26 سالہ باہمت خاتون ٹرانسپورٹ انجینئر ندا صالح چلائیں گی، جس سے پاکستان کے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کے لیے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
26 سالہ ندا صالح نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز بطور ٹرانسپورٹ انجینئر کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سخت محنت اور باقاعدہ تربیتی مراحل طے کر کے تصدیق شدہ (Certified) ٹرین آپریٹر کا اعزاز حاصل کیا۔
چینی انجینئرز کی زیرِ نگرانی کٹھن اور جدید ترین تکنیکی تربیت مکمل کرنے کے بعد ندا اورینج لائن ٹرین چلانے کے مکمل اہل ہوئیں اور انہوں نے کامیابی کے ساتھ ٹرین آپریشنز کا کنٹرول سنبھالا۔ندا صالح کی اس شاندار کامیابی اور انقلابی قدم نے ملک بھر کی خواتین کے لیے حوصلے اور امید کا نیا پیغام دیا ہے۔ ان کی اس تاریخی پیشرفت کے بعد اب مزید 10 سے 15 خواتین کو بھی میٹرو ٹرین آپریشنز کی اعلیٰ سطح کی تربیت فراہم کر دی گئی ہے، جس سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ انڈسٹری میں روزگار کے نئے اور باوقار مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ مردوں پر مشتمل سمجھے جانے والے شعبوں میں خواتین کی بھرپور اور فعال شمولیت بھی یقینی ہو رہی ہے۔

