واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کے طنزیہ بیانات کا سخت اور تند و تیز جواب دیتے ہوئے انہیں ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اوباما نے ایک انتخابی جلسے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ”صدام حسین چیزکیک فیکٹری (Cheesecake Factory) کا کوئی ریستوران چلا رہے ہوں۔“
وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کی مہم کے سلسلے میں اپنے انتخابی جلسے کی روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما کے اس طنز کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا:”آپ کا یہ بیان ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آپ اپنے دورِ اقتدار میں ایک انتہائی ناکارہ صدر کیوں ثابت ہوئے تھے۔“
امریکی سیاسی افق پر یہ تازہ لفظی معرکہ اس وقت شروع ہوا جب باراک اوباما نے اوہائیو اور مشی گن کی ریاستوں میں ڈیموکریٹس کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی نوآرائش پر گہرا طنز کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں ایک وسیع بال روم کی تعمیر اور اوول آفس میں بڑے پیمانے پر گولڈن (سنہری) سجاوٹ کی گئی تھی، جسے اوباما نے ریستورانوں کی حد سے زیادہ آرائش والی مشہور امریکی زنجیر ‘چیزکیک فیکٹری’ اور سابق عراقی صدر صدام حسین کے محلاتی انداز سے تشبیہ دی تھی۔
سابق صدر کے اس طنز پر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی سابقہ عمارت کی حالت کو اوباما انتظامیہ کی ناہلی قرار دیتے ہوئے کہا:
”اوباما جیسے لوگ جب وائٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے سے گزرتے تھے، تو انہیں باہر ٹوٹے ہوئے تعمیراتی پتھر نظر آتے تھے۔ انہوں نے وہ گندگی، غلاظت اور ناگفتہ بہ حالت کبھی نہیں دیکھی جو دیواروں پر برسوں سے صاف نہیں کی گئی تھی۔“
آئندہ ہفتے ہونے والے انتہائی اہم اور حساس وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے دو سب سے بڑے اور بااثر چہروں کے درمیان اس نوعیت کے بیانات نے امریکی سیاست میں انتخابی گرمجوشی اور تلخی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔

