پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک): فرانس میں تعلیمی اصلاحات، اسکولوں کی خستہ حالی اور مہنگائی کے خلاف جاری مظاہرے ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اصلاحاتی پیکج اور اربوں یورو کے فنڈز کے اعلان کے باوجود فرانسیسی اسٹوڈنٹ یونینز نے تمام مطالبات کی منظوری تک اسکولوں کی ناکہ بندی اور مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک مزید پرتشدد شکل اختیار کر سکتی ہے۔طلبہ تنظیم ‘لیس لیسیئنز’ (Les Lycéens) کے مرکزی رہنما پیئر سورسات (Pierre Sourzat) نے فرانس انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت مذاکرات کی میز پر آ چکی ہے لیکن طلبا کو اپنے تمام مطالبات کی منظوری کے لیے طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت کی تجاویز کو ‘نیم دلی سے کیے گئے اقدامات’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ جب تک تعلیمی ڈھانچے کے تمام مسائل حل نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔
چار ارب یورو کا سرکاری پیکج اور اصلاحاتی اقداماتستمبر سے شروع ہونے والے اس تاریخ ساز تعلیمی بحران اور احتجاج کے جواب میں فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈوارڈ جیفرے (Édouard Geffray) نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے کئی اسکول اتنے بوسیدہ ہیں کہ وہ پڑھانے کے قابل نہیں رہے۔
بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت نے درج ذیل اعلانات کیے ہیں:تعلیمی عمارتوں کی مرمت: خستہ حال عمارتوں، ٹوٹی چھتوں، اور بنیادی سہولیات کی فقدان کو دور کرنے کے لیے علاقائی انتظامیہ کو 4 ارب یورو کے سرکاری قرضے جاری کیے جائیں گے
کلاس رومز میں طلبہ کی حد: کم آمدنی والے علاقوں کے 50 فیصد ہائی اسکولوں میں 15 سالہ طلبہ کی کلاس کی حد 28 مقرر کی جائے گی، جسے اگلے سال تمام اسکولوں تک بڑھایا جائے گا۔
یونیورسٹی ایڈمیشن سسٹم میں تبدیلی: متنازع یونیورسٹی درخواست پورٹل ‘پارکورس اپ’ (Parcoursup) کو 2027-2028 میں نئے اور شفاف سسٹم سے بدل دیا جائے گا، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں 15,000 نئی نشستیں پیدا کی جائیں گی۔
تاہم صدر ایمانوئل میکرون نے مارسیل کے دورے کے موقع پر میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں، بالخصوص 31 اکتوبر کو متوقع احتجاجی مظاہرے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ میکرون نے کہا کہ صدارتی انتخابات سے محض چھ ماہ قبل ملک کا اس قدر شدید انتشار میں ہونا غیر نارمل ہے۔ فرانسیسی صدر نے 17 اکتوبر کو ہونے والی شدید توڑ پھوڑ اور لوٹ مار پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی صورت انتشار پسندوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔حالیہ پرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس کے مبینہ استعمال سے متعدد کمسن بچے شدید زخمی اور معذور ہوئے ہیں جبکہ سو سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ لارنٹ نوہور (Laurent Nuñez) نے انکشاف کیا ہے کہ نائس اور مونٹ پیلیئر جیسے شہروں میں شدید دائیں بازو (Ultra-right) کے متشدد گروپس کی شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ فرانس میں جاری اس بحران کے سیاسی اثرات بھی گہرے ہو رہے ہیں، جہاں آئندہ صدارتی الیکشن کے لیے دائیں بازو کی رہنما ماریہ لی پین سروے میں سب سے آگے دکھائی دے رہی ہیں۔
فرانس میں ہنگامے جاری رہیں گے?: طلبا یونین کا تعلیمی ادارے بند رکھنے اور سڑکوں پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان،

