تہران :ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے تہران میں ہونے والے چار فریقی اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علاقائی سلامتی کا انتظام ’بیرونی مداخلت‘ کے بغیر مقامی بنیادوں پر ہونا چاہیے‘ اور امید ظاہر کی کہ سوموار کے روز ہونے والا اجلاس ’علاقائی اتحاد‘ کی تشکیل میں ’عملی تبدیلی کے آغاز‘ کا باعث بنے گا۔
محسن رضائی سوموار کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس حکام کی ایرانی حکام سے ہونے والی ملاقات میں شامل تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے بات کرتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو ’جنوبی لبنان، جنوبی شام، غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے‘ سے انخلا کرنا چاہیے۔
ایران کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس حکام کی تہران میں موجودگی کو ’امریکی دھمکیوں کی غیر مؤثریت‘ کی علامت بھی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس، ان کے الفاظ میں، ’علاقائی اتحاد‘ کی تشکیل میں ’عملی تبدیلی کے آغاز‘ کا باعث بنے گا۔
پیر کے روز سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ابراہیم کالن تہران پہنچے، جہاں انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ اجلاس ’علاقائی اتحاد‘ کی تشکیل میں ’عملی تبدیلی کے آغاز‘ کا باعث بنے گا: محسن رضائی

