سامارو: (رپورٹ: بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
سلمان ولد غلام نبی قائم خانی، تیمور قائم خانی اور عمیر قائم خانی نے نیشنل پریس کلب سامارو پہنچ کر وحید قائم خانی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید الزامات عائد کیے ہیں کہ ان کی 7 ایکڑ 27 گھنٹے زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے، جس کی رجسٹری بھی ان کے پاس قانونی طور پر موجود ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ اور متعلقہ پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کریں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان قائم خانی نے بتایا کہ 23 تاریخ کو ان کے مویشی ان کی اپنی زمین پر چر رہے تھے، اس دوران مبینہ طور پر کچھ نامعلوم افراد کے ذریعے ان کے مویشی پکڑوا کر وحید قائم خانی کی اوطاق پر بندھوا دیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب ان کے چچا مویشی واپس لینے کے لیے وہاں گئے تو انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور زبردستی بٹھا لیا گیا۔متاثرین کے مطابق، اطلاع ملنے پر جب وہ دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ موقع پر پہنچے تو وہاں موجود بعض افراد کے پاس مبینہ طور پر پستول بھی تھے اور ان کے چچا کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد وہ فوری طور پر سامارو پولیس اسٹیشن پہنچے اور درخواست جمع کروائی، جبکہ ایس ایس پی عمرکوٹ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔سلمان قائم خانی کا یہ بھی الزام تھا کہ پولیس اسٹیشن پہنچنے سے قبل ہی ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زمین کے اس تنازع کے ساتھ ساتھ ان کی زرعی زمینوں کو پانی دینے سے بھی روکا جا رہا ہے، جبکہ اس حوالے سے ان کے پاس عدالت کا واضح حکم بھی موجود ہے۔پریس کانفرنس کے دوران سلمان قائم خانی، تیمور قائم خانی اور عمیر قائم خانی نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں جان سے مارنے، جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آخر میں انہوں نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی عمرکوٹ، ڈی ایس پی سامارو اور ایس ایچ او سامارو سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، زمین کی ملکیت اور قبضے کے تنازع کا قانونی بنیادوں پر فیصلہ کیا جائے، زرعی پانی کی بندش کی شکایت کا ازالہ کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔


