سرینگر:بریسٹ کینسر دنیا بھر میں خواتین میں پایا جانے والا ایک عام لیکن قابلِ علاج مرض ہے۔ اس حوالے سے ماہرینِ صحت کا یہ دیرینہ خوف کہ کینسر کی صورت میں پستان (چھاتی) کا ہٹایا جانا لازمی ہے، اب جدید طبی ترقی کی بدولت تبدیل ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے باعث اب چھاتی کو بچا کر بھی بریسٹ کینسر کی سرجری کامیابی سے انجام دی جا سکتی ہے۔ تاہم طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس طریقہ کار کی کامیابی کے لیے مرض کی بروقت تشخیص سب سے بنیادی شرط ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی مراحل میں کینسر کی شناخت ہو جانے کی صورت میں مریضہ کو جسمانی اور نفسیاتی صدمے سے بچاتے ہوئے مخصوص سرجیکل طریقوں (جیسے لمپیکٹومی) کے ذریعے صرف متاثرہ ٹشو کا اخراج کیا جاتا ہے، جس سے پستان کو مکمل طور پر ہٹانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ طبی ماہرین نے خواتین میں اس مرض سے متعلق آگاہی اجاگر کرنے اور بروقت اسکریننگ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے تاکہ بروقت اور بہتر علاج ممکن بنایا جا سکے۔

