تہران :ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں کرنے کی ’فنی اور عسکری‘ صلاحیت نہیں، تاہم ’وہ شاید کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق، حسین محبی نے کہا: ’امریکہ یقیناً اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے جس سے اسے نئی کامیابیاں حاصل ہوں۔‘
🔴 سخنگوی سپاه: اگر منطقه برای ایران ناامن شود، دیگر امنیتی در منطقه وجود نخواهد داشت. https://t.co/srGpUF5iIQ
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) October 19, 2026
اُنھوں نے وضاحت کی کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کا بیشتر حصہ غیر فعال کر دیا گیا ہے اور یہ کہ ان کی افواج، تھکاوٹ کا شکار ہونے کے علاوہ، ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور منتقل ہو چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکی بحری جہاز بھی خلیج فارس سے 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہیں۔
تاہم، حسین محبی نے فوجی حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا: ’امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں انجام دینے کی فنی اور عسکری صلاحیت نہیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ چونکہ امریکی انتخابات قریب آ رہے ہیں، اس لیے وہ کچھ کامیابیاں حاصل کرنا چاہے۔‘
سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا: ’ہم ان امکانات کو نظرانداز نہیں کرتے اور کسی بھی اقدام کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس بار ہمارا جواب کہیں زیادہ سخت ہو گا۔‘
انھوں نے خبردار کیا: ’امریکہ کی کسی بھی نئی کارروائی، خواہ وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے ایک سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

