صوابی (حق نواز خان)
گورنمنٹ ہائی سکول مانیری پایان کے سال 1986 کے میٹرک کے کلاس فیلوز نے اپنی یادگار دوستی کی چار دہائیاں مکمل ہونے پر ایک شاندار اور پروقار اجتماع کا انعقاد کیا۔ جماعت دہم کے ان پرانے ساتھیوں کا یہ رنگارنگ پروگرام مانیری کے دارسنگ پہاڑ کے دامن میں واقع پرفضا مقام موتی خیل جونگڑہ (مانیری پایان) میں منعقد ہوا۔چالیس سال قبل کے نوجوان اور آج کے سفید بالوں اور داڑھیوں والے جب ایک بار پھر آپس میں ملے تو ماحول میں ماضی کی خوشگوار یادیں تازہ ہو گئیں۔ تقریب کے دوران خوب گپ شپ لگی، کلاس روم کے پرانے قصے دہرائے گئے اور کھل کر ہنسی مذاق ہوا، جس سے تمام ساتھیوں کے چہرے خوشیوں سے کھل اٹھے۔پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف مزدور رہنما اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم، پشتو کے معروف شاعر انور مانیروال، محمد امین، کنٹریکٹر حاجی نواب زادہ، حاجی خالد خان، سید عارف شاہ، ظہور احمد، بخت منیر، حاجی گل روز خان، عبدالرحیم، محمد خالد، سراج محمد، مختار خان، پرویز خان ماسٹر، نوروید خان، شمس القمر، شیر نبی خان، مثمر خان، ماسٹر ضابط خان، ماسٹر محمد علی خان، خالد اقبال، ناظم شکیل داد، ارشد علی، اسلام شیر، شیر علی خان، اور مقتدر شاہ سمیت دیگر احباب شامل تھے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک مقیم ساتھیوں بختیار علی (جاپان) اور شاد علی خان (تھائی لینڈ) نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کرکے محفل کو چار چاند لگا دیے۔اس پروقار اجتماع کے دوران امریکہ میں مقیم کلاس فیلوز نذیر محمد کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جس پر تمام ساتھیوں نے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔تقریب کے شرکاء نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تندوتیز اور مصروف دور میں اس نوعیت کے پروگرام آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں کسی کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی، دوستوں کا اس طرح اکٹھا ہونا روحانی خوشیاں فراہم کرتا ہے اور کل کی مصروف دوڑ دھوپ کے لیے نئی توانائی بخشتا ہے۔پروگرام کے آخر میں اس دنیا سے رخصت ہو جانے والے کلاس فیلوز کے لیے دعائے مغفرت اور بیمار ساتھیوں کی صحتِ کاملہ کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

