شنگھائی (ویب ڈیسک): اسپین کے ٹینس اسٹار الیژانڈرو ڈیوڈوچ فوکینا (Alejandro Davidovich Fokina) نے شنگھائی ماسٹرز کے سنسنی خیز فائنل میں اپنے ہی ہم وطن رفائیل جوڈار (Rafael Jodar) کے خلاف شاندار کم بیک کرتے ہوئے اپنے کریئر کا سب سے بڑا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ عالمی نمبر 26 فوکینا نے پہلے سیٹ میں ناکامی کے بعد زبردست واپسی کی اور فائنل میچ 1-6، 7-6 (7-5)، 6-4 سے جیت لیا۔
میچ میں کامیابی کے بعد جذبات کا اظہار کرتے ہوئے 27 سالہ فوکینا نے کہا: "مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کہوں یا کیا محسوس کر رہا ہوں، بس ایک بہت بڑا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ یہ کامیابی میری باقی تمام زندگی کے لیے ایک یادگار بن جائے گی۔”
اس کامیابی کے ساتھ ہی فوکینا نے اپنا پہلا اے ٹی پی ماسٹرز 1000 (Masters 1000) ٹائٹل حاصل کر لیا ہے اور چین میں اپنی مسلسل فتح کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے لگاتار 10 واں میچ جیتا ہے، اس سے قبل وہ چینگدو میں بھی فاتح رہے تھے۔
عالمی نمبر 13 اور شنگھائی ماسٹرز فائنل میں پہنچنے والے سب سے کم عمر 20 سالہ کھلاڑی رفائیل جوڈار نے میچ کا پہلا سیٹ محض 27 منٹ میں 6-1 سے جیت کر زبردست پیش قدمی کی۔
دوسرے سیٹ میں فوکینا نے زبردست مقابلے کے بعد باؤنس بیک کیا۔ میچ کے اہم موقع پر ٹینس بال کورٹ میں آنے کے باعث پوائنٹ دوبارہ کھیلنا پڑا، تاہم فوکینا نے شدید دباؤ کے باوجود ٹائی بریکر (7-5) پر سیٹ جیت کر میچ کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا۔
تیسرے اور حتمی سیٹ میں فوکینا نے ابتدائی گیم میں ہی بریک حاصل کی۔ دورانِ میچ 20 سالہ جوڈار کو دائیں اور بائیں ران (Thigh) میں شدید درد اور کھنچاؤ کے باعث میڈیکل ٹائم آؤٹ لینا پڑا۔ جوڈار نے درد کے باوجود مقابلہ جاری رکھا، تاہم فوکینا نے اپنے دوسرے چیمپئن شپ پوائنٹ پر کامیابی حاصل کر کے ٹرافی اپنے نام کر لی۔
میچ کے بعد ٹرافی کی تقریب کے دوران فوکینا نے اپنے حریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "تم صرف 20 سال کے ہو لیکن تمہارا مستقبل بہت روشن ہے، اور تم اس جگہ بار بار پہنچو گے۔”
دوسری جانب شکست کے باوجود جوڈار کا کہنا تھا: "میں نے اس موقع کو زیادہ سے زیادہ انجوائے کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا لیکن آج میرا دن نہیں تھا۔”

