جھنگ
رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں جاری تھل ڈیزرٹ جیپ ریلی و ثقافتی میلے کے دوران ہولناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں فضا میں بلند ہوتے ہی ایک پیراگلائیڈر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پیراگلائیڈر کا پائلٹ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے ساتھ سوار ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے نوجوان نامور سیاسی و سماجی شخصیت میاں مظفر محمود چیلہ کے صاحبزادے اور میاں نور چیلہ کے پوتے ہیں۔ حادثے کے دوران ٹانگ اور بازو پر شدید چوٹیں آنے کے باعث انہیں فوری طور پر ریسکیو کر کے بہتر طبی امداد کے لیے فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور ایونٹ کے انتظامات پر بڑے سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں۔ حادثے کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکی ہیں، تاہم مندرجہ ذیل اہم امور پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے:کیا پرواز سے قبل پیراگلائیڈر اور اس کے آلات کی تکنیکی جانچ پڑتال کی گئی تھی؟کیا پائلٹ مکمل طور پر تربیت یافتہ اور قانونی لائسنس کا حامل تھا؟کیا اس دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی ہنگامی پیراشوٹ دستیاب تھا؟حادثے کے فوری بعد ریسکیو اور طبی امداد کے انتظامات کتنے مؤثر اور بروقت تھے؟شہریوں اور سویلین سوسائٹی نے ضلعی انتظامیہ، ریلی کے منتظمین اور متعلقہ آپریٹر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس حادثے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ پیراگلائیڈر کی فٹنس، حفاظتی انتظامات اور ریسکیو کارروائی کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تفریحی سرگرمیوں اور ثقافتی میلوں کا فروغ انتہائی خوش آئند ہے، مگر کسی بھی تقریب میں شائقین اور کھلاڑیوں کی انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔(وضاحت: حادثے کی وجوہات اور حفاظتی انتظامات سے متعلق حتمی سرکاری تصدیق سامنے آنے تک تحقیقات کا عمل جاری رہنا ناگزیر ہے۔)

