تہران:ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی دفاعی و عسکری صلاحیتوں میں زبردست اضافہ کرتے ہوئے ’انتہائی جدید ہتھیار‘ حاصل کر لیے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین موہبی نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی دفاعی افواج نے زیادہ تر اپنی پرانی نسل کے روایتی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ تاہم، اس جنگ کے خاتمے کے بعد سے ایران نے کہیں زیادہ جدید اور ہائی ٹیک ہتھیار اپنے دفاعی نظام کا حصہ بنا لیے ہیں۔ اگرچہ ترجمان نے ان انتہائی جدید ہتھیاروں کی قسم، نوعیت یا انہیں حاصل کرنے کے ذرائع کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا دفاع اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیدار نے دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا:”ایران کسی بھی نئی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ طاقت اور تیاری کے ساتھ بالکل تیار ہے، اور اگر اس بار امریکہ نے کوئی غلطی کی تو اس کے نتائج اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوں گے۔”
🇮🇷 Footage from the 2,500-container ship that was attacked and sunk in the Strait of Hormuz.
Now you know why the insurance rates are so high…
Writer: Samuel https://t.co/YSNxr87mT1
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 14, 2026
آبنائے ہرمز میں کنٹینر بردار جہاز غرقاب
اسی اثنا میں پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک اہم بحری واقعے کی تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، ایک بڑا کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ جہاز آبنائے ہرمز کے ایک غیر مجاز اور انتہائی خطرناک راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسی دوران بارودی سرنگ کے ساتھ خوفناک تصادم ہوا۔ترجمان کے مطابق جہاز پر 2,500 سے زائد کنٹینرز لدے ہوئے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور وہ آبنائے ہرمز کے جنوبی پانیوں میں غرق ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے کی سمندری شاہراہوں پر سیکیورٹی اور کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

