قاضی احمد (رپورٹ: سائين بخش لاکھو):
قاضی احمد تعلقہ کی یونین کونسل میر محمد جوڻو کے قدیمی گاؤں سوائی راہو میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی عمارت شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے، جس کے باعث وہاں زیرِ تعلیم سینکڑوں معصوم طلبہ کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔اسکول کی چھت سے سیمنٹ کے ٹکڑے گرنے کے واقعات میں ماضی میں متعدد طلبہ زخمی بھی ہو چکے ہیں، جب کہ والدین اور اہل علاقہ اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خوف و تشویش میں مبتلا ہیں۔گاؤں والوں کے مطابق، اسکول انتظامیہ اس ضمن میں متعدد بار متعلقہ محکمہ تعلیم کے افسران کو عمارت کی ابتر صورتحال سے تحریری طور پر آگاہ کر چکی ہے۔ یہاں تک کہ ورکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھی ایک خط جاری کیا گیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ عمارت تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہی، لہٰذا طلبہ کی تعلیم کے لیے کسی متبادل مقام کا انتظام کیا جائے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس خط کے اجرا کو دو سال بیت جانے کے باوجود اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کا کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اڑھائی سو (250) سے زائد طلبہ کے داخلے والے اس اسکول میں اساتذہ کی شدید کمی ہے، اور سولر سسٹم و واش رومز جیسی بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔ عمارت کی خستہ حالی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو رہا ہے بلکہ ان کی جانوں کو بھی روزانہ کی بنیاد پر خطرہ لاحق ہے۔

