جھڈو (رپورٹ: قیصر راجہ راجپوت)
سندھ کے پرائمری اساتذہ اپنے جائز مطالبات اور چارٹ آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ پرائمری اساتذہ کی تنظیم پ ٹ الف تعلقہ جھڈو کے تحت تعلقہ صدر عمران ارشد کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں اساتذہ نے تالپور اسکول سے پرانے نیشنل بینک چوک تک مارچ کیا اور مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی ریلی میں پ ٹ الف کے سرکردہ رہنماؤں بشمول تعلقہ صدر عمران ارشد، عبدالغفار لاشاری، سجاد لاشاری، اصغر اسد علی، اظہر جمیل، آرائیں عالم کھوسو اور سرور کھوسو سمیت اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے شرکاء اور رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے دو لاکھ پرائمری اساتذہ کو شدید ترین ناانصافیوں کا سامنا ہے، جن کے اہم نکات درج ذیل ہیں سندھ کے دو لاکھ پرائمری اساتذہ کے لیے سرے سے کوئی سروس اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ ایک پرائمری ٹیچر نہ تو ترقی پا کر جے ایس ٹی (JST) یا ایچ ایس ٹی (HST) بن کر ہائی اسکول جا سکتا ہے اور نہ ہی میرٹ پر ڈویژن یا ضلع سے تبادلہ کروا سکتا ہے۔ اساتذہ کو اپنے تبادلوں اور دیگر جائز کاموں کے لیے سندھ سیکریٹریٹ میں لاکھوں روپے رشوت دینے یا دھکے کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مستقبل قریب میں پنشن اصلاحات کے نام پر اساتذہ کی پنشن بند کرنے کی سازش کو اساتذہ کا "معاشی قتل” قرار دیا گیا۔ تمام نئے اور پرانے میل و فیمیل اساتذہ کو جوائننگ کے پہلے دن سے مستقل (Regularize) کیا جائے۔

