نواب شاہ (بیورو رپورٹ: نفیس آرائیں)
جٹ ویلفیئر سندھ کے رہنماؤں—نامور سماجی و سیاسی شخصیت شوکت علی جٹ، اللہ دتہ عرف AD جٹ، شفیق جٹ، محمد رمضان جٹ، محمد علی جٹ، اسلم جٹ، ارشد جٹ اور دیگر نے نوابشاہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھانہ بی سیکشن پولیس نے تھانے کے اندر سے موٹر سائیکل چوری ہو جانے پر ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے مدعی سمیت معزز شخصیات کو منشیات کے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیں اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر جٹ برادری اور شہری حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر تھانہ بی سیکشن پولیس کے افسران نے تھانے میں کھڑی موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ درج کرکے موٹر سائیکل برآمد نہ کی اور معزز شخصیات سے اپنے رویے پر معذرت نہ کی، تو آئندہ 48 گھنٹوں میں جٹ برادری احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے گی۔ شوکت علی جٹ و دیگر نے اعلان کیا کہ پولیس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف سانگھڑ روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور یہ احتجاج پورے ضلع اور سندھ بھر میں پھیل جائے گا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ ایک مسئلے پر جٹ ویلفیئر کے 09 رکنی وفد کے ہمراہ اے ایس پی صاحبہ کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ بی سیکشن سے ملنے گئے تھے۔ واپسی پر جٹ ویلفیئر کے ضلعی نائب صدر رفیق جٹ کی تھانے میں کھڑی نئی CD-70 موٹر سائیکل چوری ہو چکی تھی۔ موٹر سائیکل چوری کی اطلاع ایس ایچ او اور ہیڈ محرر فہیم انڑ کو دی گئی، جس پر افسران طیش میں آگئے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے برعکس بازاری لہجے میں آپے سے باہر ہو گئے، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت اور پولیس کے مورال کی پستی کی زندہ مثال ہے۔شوکت علی جٹ اور دیگر رہنماؤں نے ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن، ایس ایس پی سمیر نور چنہ، اے ایس پی میڈم درتابش اور ڈائریکٹر ہیومن رائٹس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلع شہید بینظیر آباد سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے محکمے کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور تھانے کے اندر سے چوری ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کروائی جائے، بصورت دیگر وہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔


